30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب تلاش کرکے میں روپیہ خودبھیج دوں گا یا آپ آکر لے جائیں۔نجم کہتا ہے عبدالغافر خاں نے کہا کاغذ پر آپ رسید لے لیں کل کچہری سے آؤں گا تو کتاب پر جب مل جائے گی دستخط کروں گا"حیدر حسین کا بیان ہے کہ کتاب کل میرے پاس بھیج دینا وصول لکھ دوں گا۔
ہیجدہم: احمد خان ولد میان خان گنیشی کو کہتا ہے"گورے چٹے تھے"موتی شاہ کا بیان ہے"گندمی رنگ تھا"جب گواہوں کی حالت قابل اطمینان نہ ہو جیسی یہاں ہے تو اس قسم کے اختلافات پر بھی نظر کی جاتی ہے محیط و ہندیہ میں ہے:
|
قال ابویوسف اذرأیت الریبۃ فظننت انہم شہود الزور افرق بینھم واسألھم عن المواضع والثیاب و من کان معھم فاذااختلفو افی ذٰلك اعندی اختلاف ابطل بہ الشہادۃ[1]۔ |
امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا:جب شك کی بنا پر مجھے یہ گمان ہو کہ گواہ جھوٹے ہیں تو ان دونوں کو جدا کرکے ان سے جگہ اور لباس کے متعلق اور ان کے ساتھ موجود لوگوں کے متعلق سوال کروں گا اگر وہ ان امور میں اختلاف کریں تو میرے نزدیك یہ اختلاف ایسا ہے کہ میں شہادت کو باطل کردوں گا۔(ت) |
(تناقض شاہد)نوزدہم: محمدرضاں خاں نے پہلے"معرفت مولچند"بتایا پھر کہا"ص۹ پر یہ عبارت لکھی تھی"مولچند سے وصول ہوا۔
بستم: موتی شاہ نے(٭٭)ماہوار بتایا پھر کہا ۱۴/ سود۔
بست ویکم: سید الطاف علی نے خود اپنی شہادت نقض کردی رقوم سابق ولاحق ومجموعی بیان کرکے کہا"میں نے اسکو نوٹ کرلیا تعداد رقم کی پرسوں میں نے دیکھی ہے اگر نہ دیکھتا تو اس وقت رقم کی شہادت نہ بیان کرسکتا" شاہد کو جب شہادت یاد نہ ہو تو اپنی لکھی یا دداشت کی بناء پر گواہی امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیك مطلقًا باطل ہے۔متن تنویر میں ہے:
|
لایشھد من رأی خطہ ولم یذکرھا[2]۔ |
جس نے خط دیکھا اور اس کا مضمون یا د نہ ہو تو وہ اس کی شہادت نہ دے۔(ت) |
بزدوی وغیرہ نے اسی کو قول امام محمد بتایا تقویم میں اسی صحیح کہا،ردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع