30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مبسوط وعالمگیریہ میں ہے:
|
شھد احد ھما انہ طلقھا یوم الجمعۃ بالبصرۃ والاٰخر انہ طلقھا فی ذیلك الیوم بعینہ بالکوفۃ لم تقبل شہادتھمالانا نتیقن بکذب احدھما فان الانسان فی یوم واحد لایکون بالبصرۃ والکوفۃ بخلاف مااذا شھد احدھما انہ طلقھا بالکوفۃ والاٰخرانہ طلقھا بالبصرۃ ولم یوقتا وقتا فہناك الشہادۃ تقبل[1]۔ |
ایك گواہ نےکہا اس نےبصرہ میں جمعہ کے روز بیوی کو طلاق دی،اور دوسرے نےکہاکہ اس نے اسی جمعہ کے روز کوفہ میں طلاق دی تو دونوں کی یہ شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ ہمیں ان میں سے ایك کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے کیونکہ ایك ہی روز میں انسان کوفہ اور بصر ہ میں نہیں ہوتا اس کے برخالف جب ایك نے کہااس نے بصرہ میں اور دوسرے نے کہا کوفہ میں طلاق دی اور دونوں نے کوئی وقت نہ بتایا تو اس صورت میں شہادت مقبول ہوگی۔(ت) |
نہم: سید عبدالعزیز وعبدالعزیز خاں ایك جلسے کے گواہ ہیں ان کے بیان میں شروع ستمبر ہے اس کے بیان میں ۳۰/ستمبر۔
دہم: سید عبدالعزیز کا بیان ہے مظہر پسر گنیشی کو لکھنے کی مشق کرارہاتھا اتنے میں مولوی عبدالغافر خاں تشریف لائے گنیشی کے پاس،اور کہا پانچ مہینے کا مکان کا کرایہ دو سو بیس روپے دے دیجئے اس پر گنیشی نے رام کنور سے کہا کتاب حساب کی لے آؤ،وہ لے گئے،گنیشی نے مولوی عبدالغافر خاں کو کتاب دی،بعد مولوی عبدالغافر کے چلے جانے کے مجھ سے گنیشی نے کہا اس کتاب میں کیا لکھا ہے،تو اس میں یہ لکھا تھا کہ آخر اگست ۸ تك کرایہ وصول ہوا یعنی پانچ ماہ کا مطالبہ آتے ہی کیا کتاب سے دیکھنے سے پہلے،لیکن عبدالعزیز خان کہتا ہے"عبدالغافر خان تشریف لائے اور گنیشی سے کہا ہمارا کرایہ دلوائیے،گنیشی نے کہا حساب کرلیجئے،اور رام کنور سے کہا کتاب لے آؤ،وہ کتاب حساب کی لائے،عبدالغافر نے دیکھ کر کہا پانچ مہینے کا ہمارا کرایہ بقدر دو سو بیس کے واجب ہے وہ دےدیجئے۔
یازدہم:عبدالعزیز خاں کہتا ہے"اس کے بعد گنیشی نے وہ کتاب ایك شخص کو جوگنیشی کے لڑکے کو پڑھا رہا تھا بلاکر دکھائی،اس نے پڑھا،میرے کان تك آواز آئی"یہ شخص وہی سید عبدالعزیز ہیں"لیکن ان کا بیان ہے"اس وقت آٹھ سات آدمی تھے ایك مظہر اور عبدالغافر خاں مسلمان باقی ہندو"
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع