30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبدالغافر خاں سے ہے ور زوجہ کا نام فرضی ہے بلکہ یہ دو شہادتیں اس کا رد ہیں۔وجوہ خاصہ وجوہ عامہ کے بعد ان کی طرف زیادہ توجہ کی حاجت نہیں،نہ وقت میں وسعت،مگر بعض کا تذکرہ کریں۔
(اختلاف شہادت ودعوٰی)اول: مدعی کہتا ہے قبض و دخل مدعا علیہما کا جائداد مرہونہ پر کبھی ایك منٹ کےلئے نہیں ہوا۔محمد بشیر"قبضہ جائداد پر عبدالغافر خاں کا تھا اب تك گودام پر عبدالغافر خاں اور رام کنور کا ہے دونوں کے قفل پڑے ہیں عبدالغافر خاں کا کچھ غلہ وغیرہ گودام میں ہے مجھے نہیں معلوم کہ روپیہ لینے سے قبضہ جائداد پر پیشتر ہوا تھا یا بعد،گودام پر اب تك قبضہ عبدالغافر خاں کا ہے اور گنیشی کابھی قبضہ ہے"یعنی مردے کا۔
دوم:مدعی کہتا ہے اصل معاملہ عبدالغافر کان سے ہے،زوجہ کا نام فرضی،اور احمد خان ولد عبدالنبی خاں ونجف علی خان کی شہادتیں صراحۃً اس کا رد کررہی ہیں کما مر انفا۔
سوم:مدعی کہتا ہے حقیقۃً سود لیا اور اس کے اخفاء کےلئے کرایہ نامہ فرضی لکھوایا۔،انور بیگ"گنیشی نے لکھا کہ سود کی کارروائی فرض ہے گودام اور مکان میرا رہن ہے۔
چہارم: مدعی کہتا ہے بشرح سود(۱۳ / ۱۱)پائی سیکڑہ ماہواری موتی شاہ ۱۴ کا سود ٹھہراتا تھا۔
پنجم: حسب دعوعائے مدعیان رسید بہی پیش کردہ میں صرف اس سود کی رقوم ہیں جو گنیشی نے مدعا علیہ کو دیا لیکن سید الطاف علی کا بیان ہے"میں نے گنیشی سے ریافت کیا یہ کتاب کس بابت ہے کہا میں نے مولوی عبدالغافر خاں سے کچھ روپے قرض لئے تھے اس کے سود وغیرہ کا حساب ہے"گنیشی کا یہ"وغیرہ"دعوٰی مدعیان کا نقض ہے۔
ششم: یہ رسید بہی بھی شاید بناکر پیش کی ہے وہ مدعیوں اور شاہدوں کی تکذیب کرتی ہے مدعیوں کا بیان ہے کہ"ابتدائے ۱۷/ دسمبر ۱ لغایۃ ۱۲ دسمبر (٭٭)بشرح(٭٭)ماہوار مدعا علیہ کو باخذ رسیدات نوشتہ نامبردہ ادا کی گئی،لیکن رسید بہی میں نومبر ۴ میں(٭٭٭٭)کی دو رقمیں درج ہیں تو آخر دسمبر ۱۲ تک(٭٭)پہنچی۔
(اختلاف شاہدان)ہفتم: بیان مدعیان کے سلسلے کو تمام گواہوں نے اول سے آخر تك نباہا ہے کہ ۱۵ یوم دسمبر ۱ کے (٭٭)پھر ختم ۱۲ تك ہر مہینے کے(٭٭)انہیں کے لحاظ سے اخیر رقم(٭٭)رکھی ہے اور شاہدوں کے مشاہدے سے جولائی ۶ تك پہنچی ہوئی(٭٭)حالانکہ رسید بہی سے یہ رقم(٭٭)ہے اور رقم اخیر(٭٭)۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع