30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کامال فرمایا کہ غنا بمال غیر نہیں۔محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا:
|
قال اﷲ تعالٰی " وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی ؕ﴿۸﴾ " ای بمال خدیجۃ وانما کان منہا ادخالہ علیہ الصلٰوۃ والسلام فی المنفعۃ علی وجہ الاباحۃ والتملیك احیانا[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:آپ کو اس نے محتاج پایا تو اس نے غنی کردیا،یعنی حضرت خدیجہ کے مال سے اور اس لئے کہ آپ کو حضرت خدیجہ رضی اﷲتعالٰی عنہا کی طرف سے ان کے مال میں دخل اختیار تھا،یہ اختیار آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے مباح اور کبھی ملك کے طور پر تھا۔(ت) |
بالجملہ ان میں کوئی صرف مثبت دعوٰی نہیں،ہاں موتی شاہ ووزیر خاں کی کوشش مدعیوں کو قابل مشکوری تھی کہ وہ صراحۃً ساری گفتگو عبدالغافر خاں وگنیشی میں بتاتے ہیں ان کی مہمل ومتناقض گواہیوں کا حال آئندہ آتا ہے مگر انہوں نے نری ناتمام گفتگو پر خاتمہ کردیا وقوع عقد سے صراحۃً انکار کیا،موتی شاہ"میرے سامنے کچھ اور معاملہ نہیں ہوا لکھت پڑھت کچھ نہ ہوئی زبانی بات تھی"وزیر خاں"پھر مجھے کچھ نہیں معلوم،میرے سامنے کچھ دستاویز کی تکمیل نہ ہوئی"اشرف علی خاں"اس کاغذ کا لکھا جانا بتاتا ہے جس میں تصریحًا زوجہ عبدالغافر خاں کانام ہے"عبدالغافر خاں کا گھر آنا اور روپیہ کچہری کو لے جانابلکہ دستاویزیں اپنے نام چھڑانا کسی طرح زوجہ کا اسم فرضی ہونے کا شبہہ بھی نہیں دلاتا نہ کہ دلیل ہو۔ولی خاں و غفران خاں ہزار روپے زراصل سے عبدالغافر خاں کو دئے جانے اور ان کی رسید لکھنے کے گواہ ہیں،
اولًا: ان دونوں کی گواہی خود مجوز نے نہ مانی اور اس ہزار کی ڈگری نہ دی۔
ثانیًا: تقریر سابق اس وہم کے دفع کو بس ہے،مخدرات کا روپیہ ان کے ازواج ہی کو دیاجائیگا اور وہی رسیددیں گے۔احمد خاں ولد عبدالغنی خاں ونجف علی خاں اس مد کے گواہ ہیں کہ عبدالغافر خاں نے گنیشی سے گودام کا ایك حصہ پندرہ روپے ماہوار کرائے پر مانگا۔ان گواہیوں نے تو روشن طور پر ثابت کردیا کہ یہ مکان عبدالغافر خاں سے بیع یا رہن نہ ہوئی ورنہ کرائے پر لینے نہ جاتا، غایت یہ کہ حسب زعم مدعیان خلاف اقرار صریح مورث قبضہ نہ ہوا تھا تو بذریعہ نالش قابض ہوجاتا نہ کہ ایك چیز کا پندرہ روپے مہینہ کرایہ دینا چاہتا،بالجملہ کوئی شہادت اس دعوٰی کا اثبات نہیں کرتی کہ اصل معاملہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع