30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ [1]۔ |
دعوٰی کیا یہ محدود جائداد میری ہے پھر دعوٰی کیا کہ یہ وقف ہے،تو صحیح جواب یہ ہے کہ اگر اس وقف کی تولیت کی وجہ سے اپنی طرف منسوب کیا تو دونوں دعووں میں موافقت ہوسکتی ہے کیونکہ عادۃً متولی کو تصرف اور خصومیت کی ولایت ہوتی ہے اس کی بنا پر اس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔(ت) |
رب عزوجل فرماتا ہے:
|
" وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوٰلَکُمُ الَّتِیۡ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ قِیٰمًا "[2]۔ |
اپنے وہ مال جن کا اﷲ تعالٰی نے تمہیں منتظم بنایاہے بے سمجھ لوگوں کو نہ دو۔(ت) |
امام سعید بن جبیر تلمیذ سید نا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں:
|
ھو مال الیتیم یکون عندك یقول لاتؤتہ ایاہ و انفقہ علیہ منہ حتی یبلغ وانما اضاف الی الاولیاء فقال اموالکم لانھم قوامھا ومدبروھا[3]۔ |
یہ یتیم کا مال ہے جو تیرے پاس ہے،اﷲ تعالٰی نے فرمایایہ مال یتیم کو نہ دو اور اس پر خرچ کرو حتی کہ بالغ ہوجائے،اس مال کو اﷲ تعالٰی نے اولیاء کی طرف اس لئے منسوب فرمایا کہ وہ اس کے نگران اور منتظم ہیں۔(ت) |
یہی تفسیر عکرمہ سے منقول کما فی المعالم وغیرھا(جیسا کہ معالم وغیرہ میں ہے۔ت)بلکہ رب العزت نے فرمایا: " وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی ؕ﴿۸﴾ "[4] (اور آپ کو محتاج پایا تو اس نے غنی کردیا۔ت)یہ مال ام المومنین خدیجۃالکبرٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا ہے جسے مولٰی تعالٰی نے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع