30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھٰؤلاء کالدافع لنفسہ من وجہ[1]۔ |
خود کو دینا ہوا۔(ت) |
وکیل خصومت،ملك موکل کو اپنی طرف نسبت کرتا ہے بلکہ ایك خدمتگار اپنے آقا کی ملك کو،بلکہ وصی مال یتیم کو بلکہ موقوف علیہ بلکہ متولی مال وقف کو،حالانکہ وقف خالص ملك الٰہی عزوجل ہے کسی مخلوق کا اصلًا مملو ك نہیں،یہ سب یك گونہ بوجہ اختصاص انہیں اپنی جانب اضافت کرتے اور اپنی ملك کہتے ہیں تو شوہر نے معاملہ زوجہ کو اگر اپنا کہا کیا بعیدکہا،بلکہ شرفاء میں قطعًا یہی معہود ہے عورت کا کوئی مطالبہ کسی اجنبی پر آتا ہو یاعورت نے رہن کیا ہو تو اجانب میں بیٹھ کر یہ نہ کہیں گےکہ ہماری بی بی کا اتنا روپیہ دے دو ہماری بی بی نے یہ رہن کیا ہے بلکہ یوں ہی کہ ہمارا اتنا دے دو ہم نے رہن لیا ہے۔وجیز امام کردری میں ہے:
|
ادعی انہ وکیل عن فلان بالخصومۃ فیہ ثم ادعاہ لنفسہ لایقبل لان ماھو لہ لا یضیفہ الی غیرہ، بخلاف مااذاادعاہ لنفسہ ثم ادعی انہ وکیل لفلان بالخصومۃ لعدم المنافاۃ فان الوکیل بالخصومۃ قد یضیف الٰی نفسہ یکون المطالبۃ لہ [2]۔ |
کسی نے کہا کہ میں فلاں کی طرف سے اس معاملہ کی جواب دہی کا وکیل ہوں پھر اسی چیز کو اپنی ملکیت ہونے کا دعوٰی کرے تو یہ مقبول نہ ہوگا کیونکہ اپنی چیز کو دوسرے کی طرف منسوب نہیں کیاجاتا،اسکے بر عکس پہلے اپنی ملکیت کا دعوٰی کیا، پھر بعد میں یہ دعوٰی کرے کہ اس چیز کی جواب دہی کے لئے میں فلاں کی طرف سے وکیل ہوں تو جائز ہوگا،اس صورت میں منافات نہیں ہے کیونکہ وکیل بالخصومۃ کبھی چیز کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کو مطالبے کا حق ہے(ت) |
اسی میں ہے:
|
ادعی علیہ انہا لہ ثم ادعی انہا وقف علیہ یسمع لصحۃ الاضافۃ بالاخصیۃ انتفاعا[3]۔ |
پہلے دعوٰی کیا کہ یہ میری ملکیت ہے،پھر دعوٰی کیا کہ یہ مجھ پر وقف کی گئی ہے تو دعوٰی مقبول وار قابل سماعت ہوگا کیونکہ اپنے لئے انتفاع کی خصوصیت کی بناء پر اپنی طرف منسوب کرسکتا ہے(ت) |
خزانۃ المفتین میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع