دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

قال تعالٰی " وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَکُمْ اَبْنَآءَکُمْ ؕ ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمۡ بِاَفْوٰہِکُمْ ؕ وَ اللہُ یَقُوۡلُ الْحَقَّ وَہُوَ یَہۡدِی السَّبِیۡلَ ﴿۴ "[1]

" اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنۡدَ اللہِ ۚ "[2]۔

اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اﷲنے تمہارے لئے پالکوں کو تمہارا بیٹا نہ ٹھہرایا،یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اﷲ حق بات فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے انہیں ان کے اصل باپوں کی طرف نسبت کرو،یہ اﷲ کے یہاں زیادہ انصاف کی بات ہے۔

تو یہ ان شاہدوں کا کذب ہوا اور قرآن عظیم کی مخالفت اور نہ بتانے سے الٹا بتانا بدتر،ا ور اگر بفرض باطل رامچندر ہی اس کا باپ ہوتا تو یہ نام سید عبدالعزیز نے شہادت میں یوں نہ لیا کہ گنیشی ابن فلاں شہادت دی ہو بلکہ ختم شہادت پر ایك مستقل جملہ کہا کہ گنیشی کے باپ کانام رامچندر ہے اس میں بھی لفظ مذکور تك نہ کہا معلوم نہیں کون سے گنیشی کا باپ۔یوہیں محمد رضاخاں نے ایسا ہی مستقل جملہ کہا بلکہ استدعا کی کہ یہ ولدیت لکھ دو،اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ واقع میں یہی ولدیت ہو،اس نے ہاتھی خانے کا تحویلدار بھی کہا مگر کہاں کا ہاتھی خانہ،یہ نہ بتایا،شہاد ت میں ذہنی تصورات سے کام نہیں چلتا کہ مقصود ہے تعریف،وتعریف تعریف ہے یعنی یہ بتانا کہ شاہد اسے ہپنچانتا ہے،یہ تعریفیں الفاظ سے ہوں گی نہ کہ قائل کے مافی الذہن سے لہذا سب شہادتیں مہمل ہیں۔

ہفتم:عبدالغافر خاں پر دعوٰی عائد ہونے کی بنا اس پر ہے کہ بیعنامہ وکرایہ نامہ میں زوجہ عبدالغافر خاں کانام فرضی ہو حقیقۃً یہ عقد عبدالغافر خاں سے ہوئے ہیں شہادتوں سے اس کاثبوت دو ہی صورتوں میں منحصر،ایك یہ کہ گواہ اپنے ذاتی علم سے اس پر شہادت دیں،دوسرے یہ کہ ان کے سامنے عبدالغافر خاں نے زوجہ کا نام فرضی اور اپنا واقعی ہونے کا اقرار کیا ہو ا س کی گواہی دیں،لیکن تمام شہادات ان دونوں وجہ سے خالی ہیں اپنا ذاتی علم تو کسی نے بیان نہ کیا بلکہ بعض مثل حیدر علی خاں ومحمد بشیر وغیرہما نے اپنے علم کی صاف نفی کی ہے،اکثر نے گنیشی کا قول بیان کیا ہے کہ میں نے عبدالغافر خاں سے پانچ ہزار قرض لئے اور اپنے مکان دکان رہن یا مکفول کئے ان کا کرایہ یا سوددیتا ہوں گنیشی یہاں بجائے مدعی ہے،باطل ست آنچہ مدعی گوید (باطل ہے جو کچھ مدعی کہتا ہے۔ت)اگر مدعی کے کہنے سے ثبوت ہوجائے تو گنیشی کا بیان تو گواہوں سے سنا مدعیوں کا بیان تو خود مجوز کے سامنے ہوا بس اس قدر


 

 



[1] القرآن الکریم ۳۳/ ۴

[2] القرآن الکریم ۳۳/ ۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن