30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اٹھائے تین طلاق ہوجائیں گی کہ اس اشارے سے کلام متعلق ہوا،بدائع ملك العلماء میں ہے:
|
کذااذااشار الی عدد الثلاث بان قال لہا انت طالق ھکذا یشیر بالابھام والسبابۃ والوسطی لان الاشارۃ متی تعلقت بھا العبارۃ نزلت منزلۃ الکلام اذا اقامت الاشارۃ مع تعلق العبارۃ بہا مقام الکلام صار کانہ قال انت طالق ثلثا[1]۔ |
یوں ہی جب تین عدد کا اشارہ کر تے ہوئے خاوند نے کہا تجھے یہ طلاق۔انگوٹھا،شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا کیونکہ اشار ہ کے ساتھ عبار ت ہوتو اس اشار ہ کو کلام کے قائم مقام کیا جاتا ہے،تو جب اشارہ عبارت سے متعلق ہو تو "تجھے تین طلاق"جیسی کلام کی طرح ہوجائیگا(ت) |
ردالمحتا رمیں فتاوٰی امام قاضیخاں سے ہے:
|
قال انت طالق واشار بثلاث اصابع ونوی الثلاث ولم یذکر بلسانہ فانہاتطلق واحدۃ[2]۔ |
خاوند نے"تجھے طلاق" کے ساتھ تین انگلیوں کا اشارہ کیا اور تین طلاقوں کی نیت کی اور زبان سے اشارہ ذکر نہ کیا تو ایك طلاق ہوگی کیونکہ اشارہ کاتعلق عبار ت سے نہیں ہے۔(ت) |
اور اگر کہے"تجھ پر طلاق"اور تین انگلیاں اٹھائے دل میں بھی تین ہی کی نیت کرے ایك ہی طلاق پڑے گی کہ اس اشارے سے کلام کا تعلق نہ ہوا۔
ششم: گنیشی مردہ ہے اس کے نہ دادا کانام اصلًا کسی نے لیا نہ باپ کا،بلکہ بعض نے صراحۃً اس کے باپ کانام معلوم ہونے سے انکار کیا تو شہادتیں سب مختلف وپر قصور ہیں۔ناظر یہاں تعجب کرے گا کہ سید عبدالعزیز نے شہادت اور محمد رضاخاں نے جواب جرح میں بتایا ہے کہ گنیشی کے باپ کا نام رام چند رہے او ولی خاں نے شہادت میں کہا ہے عبدالغافر نے رسید لکھ دی میں نے کہا گنیشی کی ولدیت رامچندر لکھ دیجئے تو ان تین نے تو باپ کا نام بتایا مگر اس کا یہ تعجب دوسرے سخت استعجاب سے بدل جائے گا جب اسے معلوم ہوگاکہ گنیشی کاباپ رامچندر نہیں بلکہ لل مل ہے جیسا کہ خود اس نے اسی بیعنامہ بنام نوشان بیگم کے عنوان میں لکھا ہے وہ رامچندر کا متبنی تھا اور متبنی کو بیٹا بتانا قرآن عظیم کے خلاف ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع