30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے:
|
یحتاج الی اداء الشہادۃ بمحضر منہ فلابد من معرفتہ بوجہ لیمکنہ الشہادۃ علیہ وعند غیبتہ او موتہ یحتاج الی الشہادۃ باسمہ و نسبہ فلا بد من معرفۃ اسمہ ونسبہ[1]۔ |
حاضر کے متعلق شہادت اس کے سامنے ضروری ہے تاکہ ضروری شناخت ہوسکے اور غیب ہونے کی صورت میں یا موت کی صورت میں اس کے نام اور اس کے نسب کو بیان کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس کے نام اور نسب کی ضروری معرفت ہوسکے۔(ت) |
ولہذا اگر گواہ حاضر کا پورا نام ونسب بیان کریں اور اسے پہچانتے نہ ہوں گواہی مردود ہے۔جامع الفصولین میں ہے:
|
شھداعلی امرأۃ باسمھا ونسبھا وھی حاضرۃ فقال القاضی للشھود ھل تعرفون المدعی علیہا فقالو الا لا تقبل شہادتھم[2]۔ |
دو گواہوں نے عورت کے خلاف شہادت دیتے ہوئے اس کانام ونسب بیان کیا اور وہ موجود تھی،تو قاضی نے گواہوں سے پوچھا کہ تمہیں اس عورت کی شناخت ہوگئی ہے؟ تو انہوں نے کہا نہیں،تو ان گواہوں کی شہادت قبول نہ ہوگی۔ (ت) |
اور حاضری میں معرفت شاہد کا بتانے والا یہی اشارہ ہے نام ونسب سیکھ کر بھی کہہ سکتے ہیں جیسے ابھی اس فرع میں گزرا تو حاضر پر گواہی بے اشارہ قبول نہیں مدعی اور مدعاعلیہ دونوں کی طرف اشارہ لازم ہے اور یہ سب گواہیاں اس سے خالی ہیں مدعیوں کی طر ف اشارہ اصلًاکسی میں نہیں۔
پنجم:یوں ہی مدعا علیہ کی جانب سوائے شہادت وزیر خاں کہ محض مہمل بے معنی ہے کما یأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)بلکہ اس کا اشارہ بھی شہادت میں نہیں اس سے خارج و جدا ہے،اس نے یہ نہ کہا کہ یہ دولھا خاں آئے بلکہ"دولہا خاں صاحب پیشکار آئے"تو کلام میں اشارہ نہیں اگرچہ اس کے ساتھ ہو شہادت کلام ہے کہ زبان سے ادا ہوتا ہے نہ کہ ہاتھ سے،تو شہادت اشارہ سے خالی ہے جس طرح اپنی زوجہ سے کہے تجھ پر اتنی طلاق اور تین انگلیاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع