30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غائب)کمافی نقل الشہادۃ(او میت فلابد)لقبولھا (من نسبتہ الی جدہ فلایکفی ذکر اسمہ واسم ابیہ و صناعتہ الا اذا کان یعرف بھا لامحالۃ)بان لا یشارکہ فی المصرغیرہ[1]۔ |
نقل شہادت کی صورت ہو،یامیت کے متعلق ہو تو اس وقت شہادت کی قبولیت کے لئے ان کو دادے کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے تو اس کا اور اس کے باپ اور پیشہ کا نام ذکر کرنا ناکافی نہیں ہے ہاں اگر ان کے ذکر سے لازمی طور پر معرفت ہوجائے مثلًا اس نام کا شہر میں کوئی دوسرا نہ ہو۔(ت) |
فتاوٰی ابن رشیدالدین وجامع الفصولین میں ہے:
|
لوکانت الشہادۃ علی الحاضر یحتاج الشاہد الی ال اشارۃ الٰی ثلثۃ مواضع الی الخصمین والمشھودبہ ولو علی غائب او میت فسماہ ونسبہ الی ابیہ فقط لاتقبل حتی ینسبہ الی جدہ [2]۔ |
شہادت اگر حاضر کے خلاف ہو تو تین چیزوں کی طرف اشارہ ضروری ہے،مدعی،مدعٰی علیہ اور مشہود بہ کی طرف۔اور غائب اور میت سے متعلق ہو تو ان کانام اور ان کے باپ کا نام کافی نہ ہوگا بلکہ ان کے دادے کا نام ذکر کیا جائے تو شہادت قبول ہوگی۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
اماالغائب فلابد من ذکرجدہ عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی وھو الصحیح والفتوٰی علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی [3]۔ |
لیکن غائب شخص کے متعلق ہو تو اس کے دادے کاذکر بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك ضرور ی ہے یہی صحیح ہے اور فتوٰی امام اعظم رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول پر ہے۔(ت) |
اسی طرح عامہ کتب مذہب میں ہے اقول: سر ا س میں یہ ہے کہ حاضر پر شہاد ت میں شاہد کا اسے پہچاننا ضرور ہے جبکہ اصل شاہد ہو نہ کہ شاھد علی الشاھد کما افادہ العلامۃ ابن قاضی سماوۃ(جیسا کہ علامہ ابن سماوۃ نے اس کا افادہ فرمایا ہے۔ (ت)محیط پھر جامع الفصولین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع