30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الجواب ولذالم یبنیہ علیہ العلامۃ الطرابلسی وانما عﷲ بانہ خبر عن ماض ویحتمل التغیر اقول: وفیہ نظر ویردہ فروع جمۃ لاتحصر،قال فی جامع الفصولین(مش)لو شھداانہ کان مبلکہ فکانما شھدا انہ مبلکہ فی الحال ولا یجوز للقاضی ان یقول امروز ملك وے دانید فعلی ھذا لوادعی دیناراشھد اانہ کان لہ علیہ کذااوقال اورا ایں قدرزردرذمہ ایں بود ینبغی ان تقبل کما فی العین وفی(ط)مایدل علی قبولھا وفیہ و کذا لو شاھد احدھما انہ مبلکہ والآخر انہ کان ملکہ تقبل شہادتھما لاتفاقھما انہ لہ فی الحال معنی لمامر وکذا الشہادۃ علی النکاح والاقرار بہ ففی(فش)ادعت نکاحہ فشھد احدھما انہ اقرانھا امرأتہ والاٰخرانہ اقرانھا کانت امرأتہ تقبل،لان الشہادۃ باقرارہ بنکاح کان شہادۃ باقرارہ بنکاح حالی لان ماثبت یبقی وکذالوادعی انہا امرأتی او منکوحتی وشھد اانہ |
سوال کا جواب میں اعادہ ہوتا ہے اسی لئے علامہ طرابلسی نے اس کو بنیاد نہیں بنایا اور وجہ یہ بتائی کہ یہ ماضی سے خبر ہے جو خلاف کا احتمال رکھتی ہے اقول:(میں کہتاہوں کہ)ماضی والی وجہ قابل غور ہے بہت سے مسائل ا سکو رد کرتے ہیں۔جامع الفصولین میں فرمایا(مش)اگر دونوں گواہوں نے شہادت دی کہ یہ اس کی ملکت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال اس کی ملك ہے اور قاضی کویہ حق نہیں کہ وہ کہے کہ،کیا آج ملك مانتے ہو،تو اس بنا پر اگر مدعی دینار کا دعوٰی کرے اور گواہ شہادت دیں کہ اس کا دین مدعی علیہ کے ذمے تھا یا یوں کہیں کہ اتنی مقدار زر اس کے ذمہ تھا گواہی قبول کی جائے گی جیساکہ عین چیز میں مقبول ہوگی،اور طحطاوی میں ذکر کردہ اس کی قبولیت پر دال ہے اور اس میں ہے اور یونہی اگر ایك گواہ نے کہا یہ اس کی ملك ہے،اور دوسرے نے کہا اس کی ملك تھی،دونوں کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ معنیً دونوں کا اتفاق ہے کہ فی الحال ملك ہے جیسا کہ گزرا،اور یونہی نکاح اور نکاح کے اقرار کی شہادت کا معاملہ ہے(فش)میں ہے کہ عورت نے ایك مرد سے نکاح کا دعوٰی کیا،ایك گواہ نے کہا کہ مر دنے اس کے بیوی ہونے کا اقرار کیا ہے اور دوسرے نے کہا کہ یہ اس کی بیوی تھی،تو شہادت مقبول ہوگی کیونکہ نکاح کے متعلق اقرار کی شہادت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع