30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظہر کے مظہر اپنے گھر کو جارہا تھا،انور بیگ گواہی دیتا ہوں اتنا عرصہ ہوا مظہر گنیشی کے یہاں بیٹھا تھا،نجم خاں گواہی دیتا ہوں مظہر رگناتھ پر شاد کا ملازم تھا،سید حیدر حسین گواہی دیتا ہوں میں خان بہادر کو بلانے گنیشی کے یہاں گیا،احمد خاں ولد عبدالغنی گواہی دیتا ہوں مظہر گنیشی کے یہاں نوٹ تڑانے گیا،نجف علی خاں گواہی دیتا ہوں اتناعرصہ ہوا مظہر گنیشی کی بیٹھك میں تھا، محمد غفران گواہی دیتا ہوں اتناعرصہ ہوا مظہر عبدالغافر خاں کے مکان پر تھا،اشرف علی خاں گواہی دیتا ہوں اتنے سال ہوئے دولھا صاحب اور ایك منشی جی گنیشی کی بیٹھك میں آئے،موتی شاہ گواہی دیتا ہوں منصور خاں نے میرے گھر آکر مجھ سے کہا میرا زیور گروی رکھا دو۔وزیر خاں گواہی دیتا ہوں اتنا زمانہ ہوا میرے ہاتھ میں چوٹ لك گئی تھی۔
کیا یہی فقرے مابہ النزاع ہیں،کیا انہیں جملوں کا دعوٰی ہے کیا انہیں کو مدعی ثابت کرانا چاہتا ہے ہرگز نہیں،تو یہ قطعًا مشہود بہ نہیں،مشہود بہ وہ حق ہے جسے شاہد مشہود علیہ پر بتاتا ہے۔ شلبیہ علی الزیلعی میں بنایہ سے ہے:
|
فی الشرع الشہادۃ اخباربحق لشخصٍ علٰی غیرہ عن مشاھدۃ [1]الخ۔ |
شریعت میں مشاہدہ کی بناء پر کسی حق کی خبر دینا کہ یہ فلاں کا غیر کے ذمہ ہے الخ(ت) |
ظاہر ہے کہ یہ جملے وہ حق نہیں اور ان کا قسم یا تاکید قسم نہ ہونا بدیہی،تو شہادت و مشہود بہ یعنی قسم و مقسم علیہ میں فاصل اور قسم و شھادت کے مبطل ہیں۔گواہی ان فقروں سے متصل ہوئی نہ کہ مقصود و مشہودسے،معاملہ شہادت و دعوٰی بس نازك ہے، ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ اگر یوں دعوٰی کرے کہ یہ چیز میری ملك ہے اور میرا حق،یا گواہ شہادت دے کہ یہ چیز اس مد عی کی ملك ہے اور اس کا حق،یہ دعوٰی وشہادت کا فی نہ مانیں گے کہ ممکن ہے کہ میر ایا اس کا حق کہنے کے بعد آہستہ سے لفظ "نہیں"ملالے بلکہ یوں کہنا لازم کہ میرا یا اس کا حق ہے۔فتاوٰی امام نسفی وفتاوی عالمگیریہ وغیرہم میں ہے:
|
ینبغی للشاہد ان یقول فی شہادۃ ایں مدعی ست وحق وے ست حتی لایمکن ان یلحق بہ وحق |
گواہ کو چاہئے کہ وہ شہادت میں یوں کہے یہ اس مدعی کی ملك ہے اور اس کا حق ہے تاکہ اس کو نفی لاحق نہ ہوسکے یعنی صرف اس کا حق"ہے" |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع