30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الکذب بھذہ اللفظۃ اشد[1]۔ |
کذب کا امتناع شدید ہے۔(ت) |
اور قسم مقسم علیہ کا اتصال شرط ہے جب ان میں وہ چیز فاصل ہو کہ نہ قسم ہے نہ اس کی تاکید ہے،تو قسم اس سے بے تعلق و بے اثر ہوجاتی ہے۔فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
لو قال خدائے را وپیغمبر را پذیرفتم کہ فلاں کا ر نہ کنم لایکون یمینا لان قولہ پیغمبر را پذیر فتم لایکون یمینا فاذا تخلل بین ذکر اﷲ تعالٰی وبین الشرط مالا یکون یمینا یصیر فاصلا فلایکون یمینا[2]۔ |
اگر یوں کہے میں خدا تعالٰی اور پیغمبر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو قبول کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ فلاں کام نہ کروں گا تو قسم نہ ہوگی کیونکہ پیغمبر کو قبول کرتاہوں،کہنا قسم نہیں ہے تو جب اﷲ تعالٰی اور شرط کے ذکر میں کوئی غیر قسم والے الفاظ فاصل بن جائیں تو قسم نہ ہوگی۔(ت) |
انہیں میں ہے:
|
لو قال باﷲ العظیم کہ بزر گتراز باﷲ العظیم نیست کہ ایں کار نہ کنم یکون یمینا کما لو قال باﷲ العظیم الاعظم و ھذہ الزیادات تکون للتاکید فلا یصیر فاصلا[3]۔ |
اگر کہا اﷲ عظیم کی قسم،اﷲ تعالٰی سے بزرگ تر کوئی نہیں، میں فلاں کام نہ کروں گا تو یہ قسم ہوگی کیونکہ یہ ایسے ہے جیسے کہ اﷲ تعالٰی العظیم الاعظم کی قسم،تو یہ زیادتی عظمت کی تاکید ہے تو وہ فاصل نہ ہوگی۔(ت) |
اسی طرح فتاوٰی سمر قند و فتاوٰی خلاصہ میں ہے ردالمحتار میں ہے:
|
ویشترط عدم الفاصل من سکوت و نحوہ ففی الصیرفیۃ لو قال علی عھد اﷲ وعھد الرسول لا افعل کذا لایصح لان عھد الرسول صار فا صلااھ ای لانہ لیس قسما |
سکوت اور ایسی دوسری چیز کا فاصل نہ بننا قسم میں شرط ہے تو صیر فیہ میں ہے اگر کہا اﷲ تعالٰی کے عہد اور رسول کے عہد پر میں ایسا نہ کروں گا،یہ صحیح نہیں کیونکہ"رسول کا عہد" درمیان میں فاصل بن گیا ہے اھ یعنی یہ قسم نہیں ہے بخلاف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع