30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو ثابت ہوا کہ ان میں کوئی شہادت ہر گز شرعًا شہادت ہی نہیں سب افسا نہ گوئی قصہ خوانی ہیں۔
سوم: اشھد،گواہی میدہم،گواہی دیتا ہوں سب سے سخت تر قسم ہے اور مشہود بہ مقسم علیہ یعنی وہ بات جس پر یہ شدید قسم کھائی۔درمختا رمیں ہے:
|
رکنھا لفظ اشھد لاغیر لتضمنہ معنی مشاہدۃ وقسم واخبار للحال فکانہ یقول اقسم باﷲ لقد اطلعت علی ذلك وان اخبربہ وھذہ المعانی مفقودۃ فی غیرہ فتعین[1]۔ |
اس کا رکن صرف اشھد کا لفظ ہے اور کچھ نہیں کیونکہ یہ لفظ مشاہدہ اور قسم اور حال کی خبر ہے گویا اس نے یوں کہا خدا کی قسم میں نے اس پر اطلاع پائی اور اس کی خبر دے رہا ہوں، جبکہ یہ معانی اس لفظ کے غیر میں مفقود ہیں،تویہی متعین ہے۔(ت) |
جامع الفصولین جلد اول ص۱۲۱:
|
فی لفظ الشہادۃ من التاکید مالیس فی لفظ الخبرلانہ یمین باﷲ تعالٰی معنی[2]۔ |
لفظ شہاد ت میں جو تاکید ہے وہ خبر کے لفظ میں نہیں ہے کیونکہ اشھد معنًا اﷲ تعالٰی کی قسم ہے۔(ت) |
تبیین امام زیلعی ج ۴ ص۲۱۰:
|
النصوص ناطقۃ بالاستشہاد فلا یقوم مقامھا غیر ھا لما فیہا من زیادۃ توکید لانہا من الفاظ الیمین فیکون معنی الیمین ملاحظافیہا [3]۔ |
تمام نصوص شہادت کے مطالبہ پر ناطق ہیں تو کوئی دوسرا لفظ اس کے قائم مقام نہ ہوگا کیونکہ اس میں تاکید زیادہ ہے اس لئے کہ اس میں قسم کا معنی ملحوظ ہے لہذا یہ قسم کے الفاظ میں ہے۔(ت) |
ہدایہ میں فرمایا:
|
النصوص نطقت باشتراطہا ولان فیہا زیادۃ توکید فان قولہ اشھد من الفاظ الیمین فکان الامتناع عن |
تمام نصو ص اس کی شرط پر ناطق ہیں اور اس لئے کہ اس میں تاکید زیادہ ہے تواس کا اشھد کہنا قسم کے الفاظ میں سے ہے تو اس لفظ سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع