30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کل(٭٭)دینے تھے لیکن مدعی اور گواہ اور رسیدات سب(٭٭)دینا بتاتے ہیں محال عادی ہے کہ ہو شیار بنیا تیرہ چودہ برس غلطی میں پیچاں رہ کر ۷۹روپے ۴ آنے(۷-۲۹/۳۱)پائی حساب سے زیادہ دے دے یہ ہر گز معقول نہیں اور ایسا دعوٰی کہ ظاہر حال مدعی جس کی تکذیب کرے مقبول نہیں۔بحرالرائق میں ہے:
|
ان من شرط سماع الدعوی ان لایکذب المدعی ظاہر حالہ ثم رأیت ابن الغرس فی الفوائد الفقہیۃ(صرح بہ فقال)ومن شروط صحۃ الدعوی ان یکون المدعی بہ مما یحتمل الثبوت بان لایکون مستحیلا عقلا او عادۃ،فان الدعوی والحال ماذکر ظاہرۃ الکذب لان المستحیل العادی کالمستحیل العقلی[1]۔(ملخصًا) |
دعوٰی کے قابل سماعت ہونے کے لئے شرائط میں سے ہے کہ مدعی کاظاہر حال اس دعوٰی کی تکذیب نہ کرتا ہو،پھر میں نے فوائد فقہیہ میں ابن الغرس کی تصریح دیکھی تو انہوں نے کہا کہ دعوٰی کی صحت کیلئے شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ جس چیز کا دعوی کیا ہو وہ قابل ثبوت بھی ہو یوں کہ وہ عقلًا یا عادۃً محال نہ ہو کیونکہ اگر دعوٰی ایسا ہو کہ ظاہرًا جھوٹ ہو تو قابل سماعت نہ ہوگا کیونکہ محال عادی محال عقلی کی طرح ہوتا ہے۔(ملخصًا۔ (ت) |
غایت درجہ یہاں عذر خطا ہوگا یعنی مدعیوں نے براہ غلط اس شرح کا اقرار کیا مگر بعد اقرار ادعائے خطا مردود وبیکار۔فتاوی قاضیخان و اشباہ والنظائر وقنیہ و درمختا ر وعقو دالدریہ وغیرہا میں ہے:
|
اقربشیئ ثم ادعی الخطا لم تقبل[2]۔ |
ایك چیز کا اقرار کرکے پھر اس کی خطا کی دعوٰی کرے تو قبول نہ ہوگا۔(ت) |
شہادات
ان شہادتوں کے بطلان پر کچھ وجوہ عامہ ہیں کہ ہر وجہ سب کوشامل،اور کچھ خاصہ کہ بعض سے خاص مگر ان سے بھی کوئی گواہی خالی نہیں لہذا وہ بھی وجہ عام ہیں،وجوہ عامہ سات ہیں:
اول:حقوق العباد میں صحت دعوٰی شرط شہادت ہے اگر دعوٰی صحیح نہیں اس پر کوئی شہادت کیسے ہی اعلٰی درجہ وثوق کی ہو اصلًا مسموع نہیں اذفات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط فوت ہوجاتا ہے۔ت)تنویر الابصار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع