30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷حافظ عجائب الدین خاں،۸احمد خان ولد میان خاں،۹حیدر علی خاں،۱۰عبدالرحیم خاں،۱۱الطاف علی،۱۲محمد بشیر،۱۳انور بیگ، ۱۴نجن،۱۵حیدر حسین،۱۶اشرف علیخاں،۱۷احمد خاں ولد عبدالنبی خاں،۱۸نجف علی خان،۱۹محمدغفران،۲۰ولی خاں کے اظہارات کی نقول پیش کیں جبکہ رسیدات وبینات موتی شاہ ووزیر خاں کی باضابطہ باقی سادہ،ان کے ملاحظہ سے واضح ہوا کہ نہ دعوی صحیح نہ شہادتیں نہ فیصلہ۔منصب افتا شرع مطہر کا حکم بتانا ہے اور زمانہ حسب ارشاد حدیث وہ کہ معروف منکر ہے اور منکر معروف۔
اہل اسلام حکم شرع پر گردن رکھیں اگرچہ غلط رواج سے بیگانہ نظرآئے۔
دعوے:
دعوٰی تین وجہ سے باطل ہے:
اول: وارث و مورث مثل شخص واحدہیں مورث کے اقرار ثابت کے خلاف وارث کا دعوٰی تناقض ہے اور غیر محل خطا میں تناقض مبطل دعوٰی۔وجیز امام کردری پھر بحرالرائق جلدہفتم ص۳۹پھر فتح اﷲ المعین جد ۳ ص۴۲پھر طحطاوی علی الدرالمختار جلد ۳ص۲۱۶میں ہے:
|
اعلم ان التناقض کما یکون من متکلم واحدیکون عن متکلمین کمتکلم واحد حکما کوارث و مورث۔[1] |
معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح تناقض ایك متکلم کے کلام میں ہوتا ہے اسی طرح ایسے دو متکلم حضرات کے کلاموں میں جو ایك متکلم کے حکم میں ہوں مثلًا وارث اور مورث دونوں کا کلام ایك متکلم کے حکم میں ہے(ت) |
فتح المعین و طحطاوی صفحات مذکورہ میں اس کے بعد ہے:
|
وفی ھذا دلالۃ ظاہرۃ علی مانقلہ الشیخ حسن(یعنی العلامۃ الشرنبلالی)فی رسالۃ الابراء عن فتاوٰی الشیخ الشلبی حیث حکی الاجماع علی ان دعوی الوارث لاتسمع فی شیئ لاتسمع فیہ دعوی مورثہ ان لوکان حیا فادعی[2]۔ |
اور اس میں شیخ حسن یعنی علامہ شرنبلالی کی رسالہ الابراء میں شیخ شلبی کے فتاوٰی سے منقول کلام پر ظاہر دلالت ہے جہاں انہوں نے یہ اجماع ذکر کیا ہے کہ جہاں مورث اپنی زندگی میں کوئی دعوٰی کرتا تو اس کا دعوٰی وہاں مقبول نہ ہوتا وارث کا ایسا دعوٰی قابل سماعت نہ ہوگا۔(ت) |
دوم: واپسی دستاویزات کے دعوٰی میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کاغذدستاویز ملك مدعا علیہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع