30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے ہیں کہ مکانات مذکور میں اوپر بھی درجات ہیں اور اوپر کے درجات میں ہم نہیں گئے،پس ظاہر ہے کہ جب اوپر کے درجوں میں ان گواہوں نے خود جاکر نہیں دیکھا تو ان گواہوں کی شہادت سے فارغ ہونا کل مکانات کا اسباب و سامان راہن سے جو شرط ضروری قبضہ مرہونہ کی ہے کس طرح ثابت مانا جاسکتا ہے۔
ثا نیًا:یہ کہ شہادت مذکور سے تعلق عمرو خاں قبضہ گیرندہ کا بھی نہیں ہوتا،چونکہ وہ فوت ہوگیا ہے اس لئے اس کا یعنی واسطے حصول قبضہ کے موجود ہونا ضروری تھا۔
ثالثًا:اہم وجہ بے اثری قبضہ محمد عمرو خاں یہ ہے کہ بضمن تجویز تنقیح نمبر۹ اصل صاحب معاملہ ہونا مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)کا غیر ثابت ہے اور بضمن تجویز تنقیح نمبر۱ مابین مولوی عبدالغافر خاں و گنیشی لال کے معاہدہ ہونا ثابت ہے،ایسی حالت میں منجانب مدعا علیہ نمبر۲ محمد عمر خاں(عمر بردار مرتہنہ)کا قبضہ کب مفید ہوسکتا ہے۔
رابعًا:یہ کہ مدعیان نے نقل فیصلہ اجلاس عالیہ جو ڈیشلی بمقدمہ جانی بیگم ابیلانٹ بنام نایاب بیگم رمپانڈنٹ مورخہ ۹ / دسمبر ۱۹۱۴ء میں اس امر کے ثبوت میں پیش کیا ہے کہ اجازت دینا قبضہ کی ثابت نہیں ہے جو باتباع حکم موصوفہ مبطل رہن ہے،اس میں شك نہیں کہ فیصلہ موصوفہ میں یہ امر تجویز فرمایا گیا ہے کہ راہنہ کی اجازت قبضہ دینے کی مرتہنہ کو ثابت نہیں جو ضرور ی ہے اور اس مقدمہ میں مدعا علیھا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)کاعمر خاں(عمر برادر ہندہ)کو قبضہ لینے کی اجازت لینا کسی شہادت سے ثابت نہیں ہے،پس بہ تقلید فیصلہ اجلاس اعلٰی اگر اجازت راہنہ پر اجازت مرتہنہ قیاس کی جائے تو بلاشبہہ قبضہ زیر بحث میں اجازت مرتہنہ ثابت نہ ہونے سے رہن باطل ہوتا ہے اور یہ امر ظاہر ہے کہ جب رہن میں اجازت قبضہ دینے کی امر ضروری ہے تو قبضہ کے لئے اجازت دینا بدرجہ اولٰی ضروری ہوگا کیونکہ اسی پر مدار قبضہ مرتہنہ ہے۔
خامسًا:یہ کہ شہادت مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ مرتہنہ)میں نسبت ثبوت مکانات وخلو مکانات اختلاف بین ہے۔
تنقیح نمبر۱۱ کے متعلق کوئی ثبوت قانونی یا نظر ایسی پیش نہیں
ہوئی جس سے میں تنقیح مذکور کو ثابت قراردوں میرے نزدیك اس مقدمہ میں دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ریاست اور دفعہ ۹۲ قانون شہادت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
تنقیح نمبر۱۲ بھی غیر ثابت ہے بلکہ تردید اس کی ثابت ہے کیونکہ رسید کرایہ کے لئے بمنشاء دفعہ ۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع