30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پدر مدعیان اس کے حصہ دار تھے،ثبوت ذمہ مدعیان وتردید ذمہ مدعا علیہما نمبر۱و۲۔
(۶)جو رقم مدعا علیہا نمبر۱ نے مورث مدعیان سے بنام نہاد کرایہ وصول کی ہے وہ لائق محسوبی و مجرائی باصل زر رہن ہے اور زر فاضل قابل واپسی مدعیان ہے،ثبوت ذمہ مدعیان و تردید ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲۔
(۷)دستاویز بیعنامہ برضا ورغبت مورث مدعیان بنام مدعا علیہا نمبر۲(ہندہ)تحریر ہوئی ہے پس مدعیان کو اپنے مورث کے قول کے خلاف دعوٰی کرنے کا حق بمقابلہ مدعا علیہ نمبر ۱ نہیں رہا۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۸)دعوی مدعیان کو تمادی عارض ہے۔ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۹)مورث مدعیان نے جو مکانات متنازعہ مدعا علیہا نمبر ۲ ہندہ کے ہاتھ بیع بالوفاء کئے ہیں زر ثمن اس کا ملك مدعا علیہا نمبر۲ ہے،ثبوت ذمہ مدعا علیہا و تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۰)مکانات مندرجہ بیعنامہ بالوفاء پر قبضہ حسب قاعدہ شرعی مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ کا ہوگیا تھا اور مول چند کے پاس منجانب مدعا علیہا نمبر۲ہندہ کرایہ پر ہے جس میں سے ایك قطعہ گودام واپس لے لیا گیا ہے،ثبوت ذمہ مدعا علیہا نمبر۲ ہندہ تردید ذمہ مدعیان۔
(۱۱)دعوٰی مدعیان کو دفعہ ۵۱ قانون رجسٹری ودفعہ۹۲ قانون شہادت عارض ہے،ثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱و۲ وتردید ذمہ مدعیان۔
(۱۲)جو تحریر بنام نہادرسید ایك کتاب مدعیان نے داخل کی ہے وہ بے ضابطہ و خلاف قانون قابل ضبطی ہے،ثبوت ذمہ مدعا علیہما نمبر۱ونمبر۲ وتردید ذمہ مدعیان،بعدہ کچہری نے اپنی تجویز نسبت ہرامر تنقیح کے بطریق مندرجہ تحت صادر کی۔
(تجویز)
تنقیح نمبر۱ کے بارہ میں میری رائے یہ ہے کہ موتی شاہ اوروزیر خاں کی شہادت میں حسب مراد تنقیح نمبر۱ کے گنیشی لال(زید راہن)مورث مدعیان اور عبدالغافر خاں کے مابین معاہدہ قرضہ(٭٭) کا بشرح سود(٭٭) ماہوار اور جائداد مندرجہ دستاویز کی کفالت کیلئے دینا،بحق مدعیان ثابت ہے۔
تنقیح نمبر۲و۳درحقیقت
ایسے امور میں جن کا شہودی ثبوت ناممکن ہے البتہ امور مذکورہ کاثبوت نیت میں ہوتا
ہے اور نیت مذکورہ حالات ذیل میں ثابت ہوتی ہے یعنی مدعا علیہ نمبر۱(بکر شوہر مرتہنہ)مسلمان ہے اور پیشکار کچہری بھی ہے اس لئے برے معاملات میں
اس کو خود معاہدہ کرنا اور دستاویز زوجہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع