30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(معاملہ حلال وحرام)ضرور محل احتیاط شدید ہے،مگر یہاں حلت وحرمت کا پلہ دونوں طرف یکساں اگر واقع میں طلاق نہ ہوئی اور مطلقہ ثلاث ٹھہرا کر اجازت نکاح ثانی دیں تو معاذ اﷲ اجازت زنا ہے اور واقع میں ہوگئی اور بدستور زوجہ بناکر قبضہ طلاق دہندہ میں رکھیں تو عیاذًا باﷲ اجازت زنا ہے۔دونوں طرفین کانٹے کی تو ل برابر ہیں،ہاں اتنا ضرور ہے کہ شوہر کی طرف وہ شبہات ہیں جوابھی مذکور ہوئے اور مدعا علیہ کاکذب کچھ مستبعد نہیں کہ اس کا اپنا نفع ذاتی ہے خصوصًا عوام سے ایسے مواقع میں کما قد علمت(جیسا کہ آپ معلوم کر چکے۔ت)اور شہود کثیر و متعدد ہیں اور ان کا اپناذاتی معاملہ نہیں ایك خود غرض کا کاذب ہونابہت مسلمانوں کے پرائے پیچھے اپنادین بیچنے سے آسان ہے۔غایۃ البیان میں ہے:
|
الشہادۃ تحمل علی الصحۃ ماامکن [1]۔ |
شہادت کو ممکن حد تك صحت پر محمول کیا جائے۔(ت) |
عنایہ میں ہے:
|
عندالمخالفۃ تعارض کلام المدعی والشاھد فما المرجح لصدق الشاہد ان الاصل فی الشہود العدالۃ لاسیما علی قول ابی یوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالٰی، و لایشترط عدالۃ المدعی لصحۃ دعواہ فرجحنا جانب الشہود عملا بالاصل[2]اھ کذارأیتہ ماثورا عنہا فی بعض منقولاتی۔ |
مدعی کی بات اور گواہوں کے بیان میں تعارض ہو تو ہم گواہوں کی بات کو ترجیح دیں گے کیونکہ گواہوں میں عدالت اصل ہے خصوصًا امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی کے قول پر،جملہ مدعی کا صحت دعوٰی کے لئے عادل ہونا شرط نہیں ہے تو ہم اصل پر عمل کرتے ہوئے گواہوں کے موقف کوترجیح دینگے اھ،میں نے اپنے بعض منقولات میں یوں مذکور پایا ہے۔(ت) |
(جرح شہود)کثرت شہادت کوئی قدح شرعی نہیں،احکام الٰہیہ دو قسم ہیں:تکوینی وتشریعی کسی کے سامنے وقوع وقائع متعلق بہ اول ہے اور ان میں اس کی شہادت کا قبول متعلق بہ ثانی،کیا تکوین نے کوئی حد مقرر فرمادی ہے کہ اتنے سے زائد وقائع ایك شخض کے سامنے واقع نہ ہوں گے یا تشریع نے کوئی تحدید بتادی ہے کہ اتنے بار سے زیادہ شہادت شاہد مقبول نہ ہوگی،صکاك کو دیکھئے جس کا واقعی پیشہ ہی تحریر دستاویزات ہے سال میں سیکڑوں لکھتا اور وہ ہر ایك کا گواہ پھر مذہب صحیح میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع