30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے چھ سات مہینے بعد طلاق ہونا بھی کچھ موجب ریب نہیں جس طرح تین چار دن بھی والدین کے یہاں نہ چھوڑنے کو مجوز نے فرط محبت پر محمول کرکے اسے مبنائے ریب ٹھہرایا ہے،یوں ہی برابر کا احتمال یہ بھی موجود کہ یہ بربنائے خشونت وشدت وسخت گیری ہو جس کاخاتمہ تین طلاق پر ہوا،عورتیں مردوں کے ہاتھ میں قیدی ہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اﷲ اﷲ فی النساء فانھن عوان بین ایدیکم[1]۔ |
اﷲسے ڈرواﷲ سے ڈرو عورتوں کے حق میں کہ وہ تمہارے ہاتھ میں قیدی ہیں۔ |
بد مزاج لوگ عورت کو دو دن بھی والدین کے یہاں بخوشی نہیں چھوڑتے نہ بربنائے کمال انس و محبت بلکہ شدت و غلظت واظہار حکومت،بلکہ یہاں یہی احتمال زیادہ راجح تھا اولًا: عورات کا ضعف " اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ "[2](مرد عورتوں پر قوی منتظم ہیں۔ت)سرکشی زناں بہ نسبت سخت گیری مرداں نادر ہے۔
ثانیًا: بر خلاف معتاد جملہ بلا د اول بار بھی عورت کا بضمانت جانا تند مزاجی شوہر سے ترس شدیدکا پتہ دے رہا ہے۔
ثالثًا:نام طلاق جس قدر عورتوں کو سخت شدید ناگوار ہے مردوں کو نہیں کہ اس میں انہیں اپنی بدنامی کا بھی زیادہ لحاظ ہوتا ہے، لوگ کیاکہیں گے،کیاسمجھیں گے،کیوں چھوڑدیا،اور اس کے ساتھ اپنے عیش باقی اور آنے والی عمر کا خیال کہ زنان ہند میں نکاح ثانی عار ہے۔تو بے طلاق دئیے از پیش خویش جھوٹا مشغلہ بنانے اور اس پر مقدمہ لڑانے کی جرات نوکتخدا عورت سے بہت بعید اور سخت محل شبہات ہے،ہاں جاہل مرد جب جوش حکومت میں غضب پر آتے ہیں کبھی ایك طلاق پر نہیں رکتے بلکہ تین پر بھی اتفاقًا ٹھہرتے ہیں پھر جب غصہ اترتا اور نادم ہوتے ہیں لاعلاج مرض کا علاج ڈھونڈتے ہیں ایسا ہی خوف خدا ہوا تو صبر کربیٹھے ورنہ انکار طلاق سہل نسخہ ہے بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ ایسے ضعیف احتمالات مبنائے ظننت انھم شہود الزور(تجھے گمان ہو کہ گواہ جھوٹے ہیں۔ت)نہیں ہوسکتے تو صاف واضح ہوا کہ فیصلہ اس روایت کے بھی موافق نہیں محض اوہام پر مبنی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع