30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرط مذکور:
|
اذااتھتھم ورأیت الریبۃ فظننت انھم شہود الزور [1]۔ |
جب میں ان کو متہم پاؤں اور مشکوك معاملہ دیکھوں تو میں گمان کرتا ہوں کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں(ت) |
صرف تہمت پر بھی قناعت نہ فرمائی بلکہ زیادہ کیا کہ میں ان میں ریب دیکھ لوں مجھے ان کی شاہد کذب ہونے پر گمان غالب حاصل ہوجائے یہاں مجوز نے ان تمام شہادات میں کیا ریب دیکھ لیا کس بنا پر ان کی یہ گواہی جھوٹ ہونے پر ظن ہاتھ آیا۔
(ریب وتہمت)اس بنا پر کہ اکثر مخلوق نے پیشہ شہادت زور اختیار کرلیا ہے محض بے اصل ہے شیوع کذب وعدم اعتماد خود زمانہ امام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کہ قرون خیر منقضی ہوچکے تھے،شہادت احادیث صحیحہ متحقق ہولیا تھا ولہذا صاحبین نے برخلاف مذہب صاحب مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم ظاہر عدالت پر اطمینان نہ رکھا خفیہ وآشکارا تحقیق وتزکیہ لازم کیا علماء نے تصریح فرمائی کہ یہ اختلاف اختلاف برہان نہیں اختلاف زمان ہے۔درمختار میں ہے:
|
لا یسأل عن شاہد بلا طعن من الخصم الافی حد وقود عندھما یسال فی الکل ان جہل بحالھم، بحر، سرا وعلنا،بہ یفتی وھو اختلاف زمان لانھما کانافی القرن الرابع ولو اکتفی بالسرجاز،مجمع،وبہ یفتی، سراجیۃ[2]۔ |
قاضی فریق مخالف کے اعتراض کے بغیر گواہوں کی تفتیش نہ کرے ماسوائے قصاص اور حد کے،اور صاحبین کے نزدیك تمام مقدمات میں تفتیش کرسکتا ہے اگر قاضی گواہوں کے حال سے ناواقف ہو،بحر،خفیہ اور اعلانیہ بھی۔اسی پر فتوٰی ہے اور یہ زمانہ کے اختلاف کا معاملہ ہے کیونکہ صاحبین قرن رابع میں تھے،اگر خفیہ تفتیش کرے تو بھی صحیح ہے،اسی پر فتوٰی ہے، سراجیہ (ت) |
تو اس روایت میں یہ شیوع کذب کی عام بے اطمینانی قطعًا مراد نہیں ورنہ قید و شرط کی حاجت نہ تھی بلکہ بالخصوص ان گواہوں میں کوئی ریب واضح پیدا ہونا مقصود ہے ولہذا"ورأیت الریب"فرمایا،پہر ظاہر کہ اس عام احتمال بات سے ان شہود کے کاذب ہونے پر ظن نہیں ہوسکتا اور روایت میں صراحۃً فرمایا فظننت انھم شہود الزور [3](تو میں گمان کرتا ہوں کہ یہ گواہ جھوٹے ہیں۔ت)شادی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع