30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاویٰ علامہ قاسم بن قطلوبغامیں ہے:
|
لیس للقاضی المقلد ان یحکم بالضعیف لانہ لیس من اھل الترجیح فلا یعدل عن الصحیح الالقصد غیر جمیل ولو حکم لاینفذ لان قضائہ قضاء بغیر الحق لان الحق ھوالصحیح وما وقع من ان القول الضعیف یتقوی بالقضاء المراد بہ قضاء المجتہد کما بین فی موضعہ [1]۔ |
مقلد قاضی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ضعیف قو ل پر فیصلہ دے کیونکہ وہ اہل ترجیح میں سے نہیں ہے تو وہ صحیح قول سے عدول نہیں کرسکتا سوائے کسی غیر پسندیدہ وجہ کے،اگر اس نے ایسا فیصلہ دیا تو وہ فیصلہ نافذ نہ ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ ناحق ہے کیونکہ صحیح قول پر ہی حق ہے،اور یہ قول کہ ضعیف کو فیصلہ قوی بنادیتا ہے تو اس سے مراد مجتہد کا فیصلہ ہے جیسا کہ اس کے مقام پر واضح کیا گیا۔(ت) |
فواکہ بدریہ علامہ ابن الغرس میں ہے:
|
واما المقلد المحض فلا یقضی الابما علیہ العمل والفتوی[2]۔ |
لیکن خالص مقلد تو وہ صرف اس پر فیصلہ دے سکتا ہے جس پر فتوی اور عمل ہو۔(ت) |
رسائل علامہ زین بن نجیم میں ہے:
|
اما القاضی المقلد فلیس لہ الحکم الا بالصحیح المفتی بہ فی مذہبہ ولا ینفذ قضاؤہ بالقول الضعیف [3]اھ اثر ھذہ الخمس جمیعا فی ردالمحتار۔ |
لیکن خالص مقلد تو وہ صرف اپنے مذہب کے صحیح مفتیٰ بہ قول پر فیصلہ دے سکتا ہے ضعیف قول پر فیصلہ دے تو وہ نافذ نہ ہوگا اھ ان پانچوں عبارات کو ردالمحتار میں نقل کیا ہے۔(ت) |
ان روایات صحیحہ صریحہ کثیرہ شہیرہ متوافرہ متظافرہ سے شمس وامس کی طرح واضح ہوا کہ مجوز نے اس روایت پر فیصلہ کرنے میں سراسر خلاف حکم کیا اس بناء پر فیصلہ واجب النقض بلکہ سرے سے باطل محض ہے یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ فیصلہ کو اس روایت نادرہ کے موافق فرض کرلیجئے ورنہ انصاف یہ کہ وہ اس کے بھی موافق نہیں،یہ روایت نادرہ مطلقًا ایسے اختلافات یسیرہ کو مانع شہادت ٹھہراتی بلکہ اس حالت میں جب قرائن صحیحہ و امارات صریحہ سے قاضی کو مرتبہ ظن حاصل ہو کہ یہ گواہ جھوٹی گواہی دے رہے ہیں کہ اس میں صاف
[1] ردالمحتار بحوالہ فتاویٰ قاسم بن قطلوبغا کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۳۵
[2] ردالمحتار بحوالہ فواکہ بدریۃ ابن الغرس کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۳۵
[3] ردالمحتار بحوالہ رسائل ابن نجیم کتاب ادب القضاء الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع