30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بخلاف مذہبہ عامدالاینفذ اتفاقا وکذا ناسیا عندھما،ولو قیدہ السلطان بصحیح مذہبہ کزماننا تقید بلاخلاف لکونہ معزولا عنہ اھ وقد غیرت بیت الوھبانیۃ فقلت ؎ ولو حکم القاضی بحکم مخالف لمذہبہ ماصح اصلایسطر[1]۔ |
نے اپنے مذہب کے خلاف قصدًا فیصلہ دیا تو بالاتفاق نافذ نہ ہوگا،اور یوں ہی بھول کردیا تو صاحبین کے ہاں وہ بھی نافذ نہ ہوگا،اور اگر سلطان نے قاضی کو اپنے مذہب کے صحیح پر فیصلہ کا پابند کیا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں پابند کیا جاتا ہے تو بغیر اختلاف وہ نافذ نہ ہوگا کیونکہ قاضی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اھ اور میں نے وبانیہ کے شعر کو تبدیل کرتے ہوئے یوں کہاہے:اگر قاضی نے اپنے مذہب کے خلاف فیصلہ دیا تو قطعًا صحیح نہ ہوگا یوں لکھا جائے۔(ت) |
ردالمحتار میں قبیل باب التحکیم ہے:
|
القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح[2]۔ |
جو قاضی امام صاحب کے اقوال میں سے اصح قول پرفیصلہ کا پابند بنایا گیا ہو جب وہ اس کے غیر پر فیصلہ دے تو صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
فتح القدیر ہے:
|
اما المقلد فانما ولاہ لیحکم بمذہب ابی حنیفۃ فلا یملك المخالفۃ فیکون معزولا بالنسبۃ الی ذٰلك الحکم[3]۔ |
اگرمقررکرنے والے نے قاضی کو امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالیٰ کے مذہب کا پابند کیا ہو وہ مخالفت کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ وہ ایسے حکم کا مجاز نہ تھا۔(ت) |
برہان شرح مواہب الرحمٰن پھر غنیۃ ذوی الاحکام شرح دررالحکام میں ہے:
|
ھذاصریح الحق الذی یعض علیہ بالنواجذ[4]۔ |
یہ صریح حق ہے جس کو دانتوں سے مضبوط پکڑنا چاہئے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع