30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توجماہیر کے خلاف،امام کے خلاف،ظاہر الروایۃ کے خلاف،دلیل کے خلاف،بے تصحیح صریح و ترجیح رجیح ائمہ افتاء ایك روایت شاذہ نادرہ پر فیصلہ کیونکر روا،ائمہ وعلماء کی روشن تصریحا ت ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ سے خارج ہے ہمارے ائمہ کامذہب نہیں وہ مرجوع عنہ ہے قول مرجوح پر افتاء وقضاء جہل وخرق اجماع ہے نہ کہ مرجوع عنہ کہ سرے سے قول ہی نہ رہا،لاجرم ایسے فیصلے کو منسوخ کردینے کا حکم فرمایا اور اگر والی مولی جس نے قاضی عہدہ قضا دیا تصریح کردی کہ مذہب امام یا قول مصحح پر عمل کرنا جیساکہ غالبًا یونہی ہوتا ہے جب تو ایسا فیصلہ قطعًا اجماعًا سرے ہی سے باطل و نامعتبر و محض بے اثر جسے منسوخ کرنے کی بھی حاجت نہیں کہ قاضی اب ماورائے مذہب میں معزول ومثل احدمن الناس ہے۔ردالمحتار میں ہے:
|
قد صرحو ابان العمل بما علیہ الاکثر[1]۔ |
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عمل اکثریت کے موقف پر ہوگا۔ (ت) |
امداد الفتاح علامہ شرنبلالی میں ہے:
|
القاعدۃ العمل بماعلیہ الاکثر[2]۔ |
قاعدہ ہے کہ عمل اکثریت کے موقف پر ہوگا۔(ت) |
شرح الاشباہ للعلامۃ البیری وعقودالدریہ میں ہے:
|
المقرر عند المشایخ انہ متی اختلف فی مسألۃ فالعبرۃ بما قالہ الاکثر[3]۔ |
مشائخ کے ہاں ثابت شدہ ہے کہ جب مسئلہ میں اختلاف ہو تو اکثریت کے قول کا اعتبار ہوگا۔(ت) |
تنویر الابصار ودرمختار ومنیہ وسراجیہ وغیرہا میں ہے:
|
یاخذ القاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق [4]۔ |
مفتی کی طرح قاضی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول کو علی الاطلا ق لے گا۔(ت) |
ثلٰثہ اخیرہ میں ہے:ھو الاصح[5] (وہی اصح ہے۔ت)بحر الرائق میں ہے:یجب علینا الافتاء
[1] ردالمحتار باب المیاہ قبل باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۵۱
[2] العقو دالدریہ بحوالہ الشرنبلالی مسائل وفوائد من الحظر والاباحۃ الخ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵۶
[3] العقو دالدریہ بحوالہ بیری مقدمۃ الکتاب ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۳
[4] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲
[5] درمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع