30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہاں ایسے کسی اختلاف یسیر کا بھی اصلًا واقع نہ ہونا ہے تعجب ہے تو ان پر نظر کا حاصل سوا اضاعت حقوق اعانت عقوق کے اور کیا قرار پاسکتا ہے،والعیاذ باﷲ تعالٰی،پرظاہر کہ اس میں حرج صریح ہے اور حرج بنص قطعی مدفوع۔جامع الفصولین میں ہے:
|
عدم القبول فی امثالہ یفضی الی الحرج والتضییق وتضییع کثیر من الحقوق وامرنا بیسرلابعسر والحرج مدفوع شرعا۔[1] |
ایسی صورتوں میں قبول نہ کرنا حرج،تنگی اور بہت سے حقوق کے ضیاع کا سبب بنتا ہے جبکہ ہمیں یسر کا حکم ہے تنگی اور دشواری پیداکرنے کا حکم نہیں نیز حرج شرعًا مدفوع ہے۔(ت) |
(روایت نادرہ ابی یوسف)کو مذہب امام ابویوسف کہنا کس قدرخلاف فقاہت ہے نہ قاضی ومفتی کو اس پر عمل وحکم کی اجات۔ جامع صغیر ومبسوط امام محمد وبحرالرائق واشباہ والنظائر وزواہر الجواہر و درمختارو فتاوٰی صغری و فصول عمادی وخزانۃ المفتین وجامع الفصولین وغایۃ البیان و فتاوٰی انقرویہ،ردالمحتار وفتاوٰی خلاصہ وکافی ولسان الحکام و معین الحکام و عقود الدریہ و وجیز کردری وفتاوٰی خانیہ وفتاوی ظہیریہ و فتاوٰی قاعدیہ وغیرہا کتب معتمدہ مذہب کی عبارات کثیرہ اوپر گزریں کہ اس روایت نادرہ کے سراسر خلاف ہیں اور انہیں پر انحصار نہیں،عامہ کتب مذہب میں اس کا خلاف موجود،اور اس روایت کامخالف ظاہرالروایت ہونا خود عبارت منقولہ فیصلہ سے ثابت فیصلہ سے جس قدر سائل نے نقل کیا وہ یہیں سے ہے کہ اذا ارتاب القاضی(جب قاضی کو شك ہو۔ (ت)حالانکہ اصل عبار ت محیط ان الفاظ سے شروع ہے:قال فی الاصل اذاارتاب القاضی [2]الخ(اصل(مبسوط)میں فرمایا جب قاضی شك میں مبتلا ہو الخ۔ت)جس سے صاف ظاہر کہ محرر المذہب امام محمد نے کتاب الاصل میں کہ کتب ستہ ظاہر الروایۃ سے ہے بے حکایت خلاف تصریح صاف فرمائی کہ شاہدوں کا زمان ومکان میں بھی اختلاف مطلقًا مضر شہادت نہیں جہاں ہے"ہے"یعنی افعال نہ طلاق و عتاق وبیع وامثالہا اقوال چہ جائے اختلاف ثیاب ومراکب وحضار واقعہ نساء ورجال، اورصاف یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مجرد تہمت وریب کی بناء پر شہادت رد نہ کی جائے گی،نیز اسی عبارت سے یہ بھی ثابت کہ نوادر میں بھی یہ صرف روایت ابی یوسف ہے برخلاف امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲ تعالٰی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع