30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اوذکر المدعی مکانا وھما سمیا غیر ذٰلك المکان،او قال المدعی اقر وھو راکب فرس اولابس عمامۃ، و قالا اقروھو راجل اوراکب حمار او لابس قلنسوۃ و اشباہ ذٰلك فانہ لایمنع القبول لان ھذہ الاشیاء لا یحتاج الی اثباتھا فذکرھا والسکوت عنہا سواء وکذا لووقع مثل ھذا التفاوت بین الشہادتین لایضر[1]۔ |
نے جگہ کاذکر کیااور گواہوں نے وہ جگہ ذکر نہ کی،یا یہ کہ مدعی نے جگہ کا ذکر کیا اور گواہوں نے کسی دوسری جگہ ذکر کیا یا یہ کہ مدعی نے دعوٰی میں کہا کہ گھوڑے پر سواری کی حالت میں اقرار کیا یا عمامہ پہنے ہوئے اقرار کیا اور گواہوں نے پیدل یا گدھے پر سوار ی کی حالت میں یا ٹوپی پہننے کی حالت وغیرہ کا،توان غیر ضروری امور میں اختلاف گواہی کی قبولیت کے لئے مانع نہ ہوگا،کیونکہ یہ چیزیں وہ ہیں جن کا اثبات ضروری نہیں ہے توان کا ذکر اور عدم ذکر مساوی ہے اور یونہی اگر اس قسم کا اختلاف دونوں گواہوں کی شہادت میں ہو تو مضر نہ ہوگا۔(ت) |
بلکہ علماء تو معاملہ طلاق و عتاق میں نفس الفاظ ایقاع کے اختلاف لسانی کو نظر انداز کرتے ہیں ایك گواہ کہے زید نے اپنی زوجہ سے کہا انت طالق یا غلام سے انت حر،دوسرا کہے طلاق دادمت کہا،یا آزاد ت کردم،یا ایك کہے زید نے اس وقت عربی میں کلام کیا تھا،دوسرا کہے کہ فارسی میں،ان سب صورتوں میں شہادت مقبول ہے اور طلاق وعتاق ثابت،پھر ان بالائی لغویات کا لحاظ یعنی چہ،درمختار میں ہے:
|
شھد احدھما انہ قال لعبدہ انت حر والاٰخر انہ قال آزادی تقبل[2]۔ |
اگر ایك نے شہادت دی کہ اس نے اپنے غلام کو"انت حر" (عربی) اور دوسرے گواہ نے کہا کہ اس نے غلام کو فارسی میں آزاد کہا گواہی قبول ہوگی۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
شھد احدھما انہ اعتق بالعربی والاٰخر بالفارسی تقبل[3]۔ |
ایك نے شہادت دی کہ اس نے غلام آزاد کرتے ہوئے عربی میں اور دوسرے نے شہادت میں کہا کہ اس نے فارسی میں کہا،شہادت مقبول ہوگی(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع