30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو سأل القاضی الشہود عن لون الدابۃ وذکر وا ثم شہد واعند الدعوی و ذکر واالصفۃ علی خلافہ تقبل والتناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر[1]۔ |
اگر قاضی نے گواہوں سے جانو ر کے رنگ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کوئی رنگ بتایا پھر دعوٰی کے موقعہ پر انہوں نے کوئی دوسرا رنگ بتایا تو شہادت مقبول ہوگی کیونکہ غیر ضروری چیز میں تناقض مضر نہیں ہے(ت) |
خانیہ وبحرالرائق وظہیریہ وعالمگیریہ میں ہے:
|
لو اختلفافی الثیاب التی کانت علی الطالب والمطلوب او المرکب او قال احدھما کان معنا فلان وقال الآخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز لاتبطل ھذہ الشہادۃ [2]۔ |
اگر گواہوں نے طالب،مطلوب یا سواری کے جانور پر کپڑے میں اختلاف کیا یا ایك نے کہا فلاں ہمارے ساتھ تھا اور دوسرے نے کہا وہ ہمارے ساتھ نہ تھا اصل(مبسوط) میں مذکور ہے کہ یہ شہادت جائز ہے اور اسے باطل نہ کہا جائیگا۔(ت) |
فتاوٰی قاعدیہ وفتاوٰی انقرویہ میں ہے:
|
قال الشہادۃ لو خالفت الدعوٰی بزیادۃ لایحتاج الی اثباتھا او بنقصا ن کذٰلك فان ذٰلك لایمنع قبولھا مثالھا لو اشھدا علی اقرارہ بمال فقال لااقر فی یوم کذا والمدعی لم یذکر الیوم او شھداولم یؤرخا و المدعی ارخ،اوشھداانہ اقرفی بلد کذا وقد اطلق المدعی او ذکر المدعی المکان ولم یذکراہ |
فرمایا اگر شہادت کسی غیر ضروری یا نقصان کی وجہ سے دعوٰی سے مختلف ہوجائے تو گنجائش ہے کہ اس کی قبولیت سے انکار نہ کیا جائے مثلًا گواہوں نے ایك شخص کے اقرار بالمال کی شہادت دیتے ہوئے کہا اس نے فلاں روز اقرار کیا حالانکہ مدعی نے اس دن کا ذکر نہ کیا یا یوں کہ مدعی نے اپنے دعوٰی میں کوئی تاریخ ذکر کی اور گواہوں نے وہ تاریخ نہ ذکر کی یا یہ کہ گواہوں نے کسی شہر کا ذکر کیا حالانکہ مدعی نے کسی شہر کوذکر نہ کیا یا یہ کہ مدعی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع