30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور قرآن عظیم کے عامہ قصص اور تمام منقولہ بالمعنی و بزیادت و نقص رواۃ جن کے تو دہ تو دہ نظائر صحیح بخاری کے اور ابواب اور صحیح مسلم کے ایك ہی سیاق میں مل سکتے ہیں کافی ووافی۔کوئی عاقل اسے اختلاف نہیں کہہ سکتا۔رہا غلام ناصر خان و غلا م محی الدین خاں کا اختلاف،ممکن کہ واقع میں غلام ناصر خاں پہلے چلا گیا ہو غلام محی الدین خاں نے اسے جاتے نہ دیکھا استصحابًا کہا وہیں چھوڑآیا۔
ثانیًا:بالفرض اگر یہ سب اختلاف مسلم بھی ہوں تو زائد و فضول و لغو و بیکار باتوں میں تفاوت اصلًا لائق التفات نہیں بگابیگم کو تفضل حسین خان نے پرورش کیا یا اس کی زوجہ نے مدعا علیہ نے طلاق دینے میں"اے بگا"کہا،یا بے ندا اس سے خطاب کیا،اس نے امراؤ بیگم وغیرہا سے سلام علیك کی یا نہ کی،غلام محی الدین خاں پہلے اٹھ گیا یا غلام ناصر خاں،بگا بیگم نے کلن خاں سے دروازے میں کچھ کہا یا نہیں،بجواب عباس علی خاں جب تك ضامن نہ آئیں،جانے سے انکار ان لفظوں سے اداکیایا ا ن سے ان میں کون سی بات کی نفی یا اثبات طلاق دینے نہ دینے سے تعلق یا معاملہ پر کچھ اثر رکھتی ہے تو ایسی مہملات پر نظر کے کوئی معنی نہیں۔وجیزامام کردری میں ہے:
|
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر،اصلہ فی الجامع الصغیر الخ[1]۔ |
غیر ضروری کے متعلق تناقض مضر نہیں،اس کی اصل جامع الصغیر میں ہے الخ(ت) |
جا مع الفصولین فصل ۱۱ میں ہے:
|
القاضی لو سأل الشہود قبل الدعوٰی عن لون الدابۃ فقالوا کذا ثم عند الدعوٰی شھدا بخلاف ذلك اللون تقبل لانہ سأل عما لایکلف الشاھد بیانہ فاستوی ذکرہ وترکہ ویخرج منہ مسائل کثیرۃ [2]۔ |
قاضی نے اگر دعوٰی سے قبل گواہوں سے جانور کا رنگ پوچھا تو انہو ں نے کوئی رنگ بتایا پھر قاضی نے دعوٰی کے موقعہ پر ان سے سوال کیا تو انہوں نے دوسرا رنگ بتایا یہ شہادت مقبول ہوگی کیونکہ قاضی نے ان سے ایسی چیز کا سوال کیا جس کے بیان کے وہ پابند نہیں تو ایسی چیز کا ذکر کرنا نہ کرنا مساوی ہے اس ضابطہ سے بہت سے مسائل کی تخریج ہوئی ہے۔(ت) |
خلاصہ وہندیہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع