30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ومعہ علی المدعی ثم یشھد لہ بعد ذلك فانہ ینبغی ان لاتقبل والفقہ فیہ انہ لماطال التردد مع المخاصم والمخاصمۃ لہ مع المدعی علیہ صار بمنزلۃ الخصم للمدعی علیہ اھ اھ [1]۔ |
مدعا علیہ کے خلاف مخاصمت کر رہا ہے پھر وہ مدعی کے حق میں اس تردد اور مخاصمت میں گواہی دے تو اسے قبول کرنا مناسب نہیں اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ جب مدعی کے حق میں مدعی علیہ کے خلاف طویل مدت شریك رہا تو وہ گویا خودمدعی علیہ کے خلا ف مخاصم بن گیا اھ۔(ت) |
وہبانیہ میں ہے: ؎
وقد قیل لابن العم والاخ لم یجز اذا خاصما معہ سنینا واخروا[2]
(چچا زاد اوربھائی کےمتعلق بیشك یہ کہا گیا ہے کہ جب مدعی کے حق میں کئی سال کے بعد تك وہ مدعا علیہ کے خلاف مخاصم رہے ہوں تو ان کی گواہی مدعی کے حق میں جائز نہیں ہے۔ت)
پر ظاہر کہ یہاں یہ صورت بھی نہیں تو صرف اتنی بات پر شہود کو خصم ٹھہرادنیا محض بے اصل ہے۔
(اختلافات) کہ بیان شہود میں پیدا کئے ان میں کوئی اصلًا صالح التفات نہیں۔
اولًا:تفضل حسین خاں نے اپنی بی بی کا پرورش کرنا بتایا غلام ناصر خاں نے تفضل حسین خاں کا یہ کیا اختلاف ہوا ممکن کہ تربیت مباشرۃً امراؤ بیگم نے کی اور مال ورضاجانب تفضل حسین خاں سے،تو بلحاظ مباشرت اس سے نفی اور بنظرمال واجازت اس کے لئے اثبات دونوں حق ہیں۔
|
قال اﷲ تعالٰی " وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی ۚ "[3] ۔ فتح الامیر الحصن ولم یفتح ھو بل العسکر کل صحیح کما قد علم فی محلہ۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:جب آپ نے مارا آپ نے نہ مارا لیکن اﷲ تعالٰی نے مارا۔امیر نے قلعہ فتح کیا،اس نے فتح نہ کیا بلکہ لشکر نے فتح کیا یہ کلام ہر طرح صحیح ہے،جیسا کہ وہ اپنے محل میں معلوم ہے۔(ت) |
ایسے امور کا صاحب خانہ کی طرف نسبت کرنا شائع وذائع ہے لانہ الاصل وعن رأیہ یصدر(کیونکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع