30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امرأۃ ابنہ وابیہ[1]۔ |
اور والد کے بیٹے(علاتی بھائی) کے حق میں شہادت مقبول ہوگی۔(ت) |
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر گواہی مقدمہ میں مدعاعلیہ سے لڑیں جھگڑیں شہادت کو ضرر نہیں جبکہ عادل ہوں اس سے زیادہ اور کیا طرف داری ہوگی۔خزانۃ الفتاوٰی وبحرائق ودرمختار میں ہے:
|
تخاصم الشہود والمدعی علیہ تقبل لوعدولا[2]۔ |
مدعی علیہ اور گواہوں کی مخاصمت ہوتو گواہی مقبول ہے بشرطیکہ گواہ عادل ہوں۔(ت) |
تنبیہ:مسئلہ برادر تمام متون وعامہ شروح و فتاوٰی میں یونہی اطلاق وارسال پر ہے قنیہ میں اسے اس قید سے مقید کیاکہ ایسا نہ ہو کہ مقدمہ نے بہت طول کھینچا اور یہ بھائی اپنے بھائی کی حمایت میں برسوں سے اس مقدمہ کی پیروی وکو شش ومخاصمہ و کاوش میں رہا،اب اگر اس مقدمہ میں بھائی کیلئے گواہی دے گا مقبول نہ ہوگی کہ اس ممتد کارروائی نے گویا اسے مثل مخاصم کردیا،علامہ ابن وہبان نے نظم الفرائد میں اسے بلفظ قیل نقل کیا اور شرح میں قیاسًا فرمایا کہ باقی اقارب واجانب کا بھی یہی حکم ہو جبکہ برسوں پیروی مقدمہ کرچکے ہوں۔بحر الرائق میں ہے:
|
فی القنیۃ امتدت الخصومۃ سنین ومع المدعی اخ وابن عم یخاصمان لہ مع المدعی علیہ ثم شھدا لہ فی ھذہ الخصومۃ بعد ھذہ الخصومات لاتقبل شہادتھما اھ وذکر ابن وھبان وقیاس ذٰلك ان یطرد ذٰلك فی کل قرابۃ وصاحب تردد مع قرابتہ او صاحبہ الی المدعی فی الخصومۃ سنین ویخاصم لہ |
قنیہ میں ہے کئی سال تك مدعوی کی حمایت میں اس کا بھائی چچا زاد،مدعٰی کے خلاف مخاصمت میں شریك ہیں پھر وہ بھائی اور چچا زاد اسی مخاصمت کے مقدمہ میں مدعی کے حق میں گواہی دیں تویہ شہادت مقبول نہ ہوگی اھ،ابن وہبان نے ذکر کیا ہے کہ یہ قاعدہ ہر قرابت میں جاری ہوگا اور اپنے قریبی کے تردد اور مدعی کی مصاحبت میں کوئی سال سے شامل ہے اور مدعی کے حق میں مدعی کے ساتھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع