30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فلاتقبل شہادۃ الوصی للیتیم والوکیل لموکلہ[1]۔ |
میں گواہ کی مخاصمت نہ ہو،تو وصی کی یتیم کے حق میں اور وکیل کی موکل کے حق میں شہادت مقبول نہ ہوگی۔(ت) |
شرح وہبانیہ للمصنف ولسان الحکام و بحرالرائق میں ہے:
|
لو خاصم الشخص آخر فی حق لاتقبل شہادتہ علیہ فی ذٰلك الحق کالوکیل لاتقبل شہادتہ فیما ھو وکیل فیہ،والوصی لاتقبل شہادتہ فیما ھو وصی فیہ و الشریك لا تقبل شہادتہ فیما ھو شریك فیہ ونحو ذٰلک[2]۔ |
اگر کوئی کسی حق میں دوسرے سے مخاصم ہے تو اس حق میں ایك دوسرے کے خلاف شہادت مقبول نہ ہوگی،جیسا کہ وکیل کی شہادت اس کی وکالت والے معاملہ میں اور وصی کی جس معاملہ میں وہ وصی ہے اور شریك کی جس میں اس کی شرکت ہے،قبول نہ ہوگی۔(ت) |
ہر ذی عقل جانتا ہے کہ ایك دوست خالص اپنے سچے دلی دوست کا ضرور طرفدار ہوتا ہے خصوصًا حقیقی بھائی پھر باتفاق علما دوست وبرادر کی شہادت یقینا مقبول ومسموع ہے جب تك دوستی اس حد کو نہ پہنچے کہ ایك دوسرے کے مال میں نہ صرف زبانی بلکہ واقعی اپنے مال کی طرح جو چاہے بے تکلف تصرف کرے۔معین الحکام وفتاوٰی تمرتاشی و درمختار میں ہے:
|
اما الصدیق لصدیقہ فتقبل الااذاکانت الصداقۃ متناھیۃ بحیث یتصرف کل فی مال الآخر[3]۔ |
لیکن دوست کی دوست کے حق میں شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ وہ دوستی انتہائی جس میں وہ ایك دوسرے کے مال میں بلا اجازت تصرف کرتے ہوں،نہ ہو۔(ت) |
کنز وغیرہ عامہ متون میں ہے:
|
تقبل لاخیہ وعمہ و ابویہ رضاعا و ام امرأتہ وبنتھا و زوج بنتہ و |
بھائی،چچا،والدین رضاعی،بیوی کی ماں،بیوی کی پہلی خاوند سے بیٹی،داماد،والد کی بیوی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع