30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو عند التحقیق مجرد اس اظہار تفضل حسین خاں سے عداوت بالغہ مان لینا کسی قول پر صحیح نہیں جب تك اس کی ترجیح جانب عدالت پر ثابت نہ کی جائے ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق(تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت)
(طرفداری) غلام ناصر خاں کاکہنا جو کچھ کوشش اور پیروی ہوسکے گی کروں گا اگر اس بناء پر مانع قبول مانئے کہ جو کسی کام میں کوشش وپیروی کرے مطلقًا مردود و مثل نفس مخاصم ہے تو بداہۃً باطل کہ اس میں سرے سے شہادت کا دروازہ ہی بند ہوتا ہے نفس شہادت ہی مشہودلہ کیلئے کوشش اور اس کے کام کی پیروی ہے کما تشھد بہ اللام فی شھد لہ(جیسا کہ"شھد لہ"کالام اس کی گواہی دیتا ہے۔ت) اور اگر اس بناء پر کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خواہ مدعیہ حق پر ہو یا باطل پر،ہر طرح میں اسی کا ساتھ دوں گا،توکلام میں ہرگز اس کا ذکر نہیں اور از پیش خویش معنی فاسد پر حمل کرکے جو اعتراض ہو وہ اپنے حمل پر ہے نہ کہ اصل قول پر،کیوں نہ کہئے کہ ہوسکنے سے اس کے کلا م میں امکان شرعی مراد،حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ [1]۔رواہ الامام احمد ومسلم فی صحیحہ عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی کو نفع دے تو دینا چاہئے(اسے امام احمد و مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
جو معنی"ہوسکنے"کے یہاں ہیں وہی وہاں۔لفظ طرفداری کلام غلام ناصر خان میں ہے بھی نہیں،کلام غلام محی الدین خاں میں ہے،عند الانصاف وہ بھی اسی قیاس پر ہے اس نے ہر گز نہ کہا کہ مدعیہ حق پر ہو یا ناحق پر،میں ہر طرح اس کا طرفدار ہوں گا، اور امر حق میں طرفداری نہ ممنوع نہ مانع قبول،ورنہ وہی سدباب شہادت لازم آئے۔علماء جو مخاصم مقدمہ کی شہادت نامقبول بتاتے ہیں جسے مجوز فیصلہ نے ایك روایت محض بیگانہ پر محول کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود فریق مقدمہ ہو جیسے شریك یا وکیل یا نابالغ کا وصی،نہ یہ کہ مطلقًا معین کو مخاصم و فریق مقدمہ بنادیجئے،بدائع پھر ردالمحتار میں ہے:
|
شرط ادائھا ان لایکون خصما |
شہادت اداکرنے کی شرط یہ ہے کہ اس معاملہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع