30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شہادۃ العدو علی عدوہ الصحیح انہا تقبل سواء کانت العداوۃ دینیۃ او دنیویۃ فانہا لاتقدح فی العدالۃ [1]۔ |
صحیح یہ ہے کہ عداوت والے کی شہادت مقبول ہے خواہ یہ عداوت دینی ہو یا دنیوی،کیونکہ یہ عدالت کو متاثر نہیں کرتی۔ (ت) |
رابعًا: وباﷲ التوفیق،نظر تدقیق میں تحقیق یہ ہے کہ علمائے متاخرین بھی مطلقًا رنجش کو مسقط شہادت نہیں کہتے جب تك اس حد تك نہ پہنچے کہ قلب و عقل ایمانی پر مستولی ہو کر عدالت انسان عادل پر غالب آجائے جس کے باعث بانکہ اس کی عدالت ثابت،یہاں جھوٹی گواہی دینے کا مظنہ پیدا ہو ا اور اس شخص کے معاملہ خاص میں اس کے صدق و عدالت پر اطمینان نہ رہے،ان کی تعلیلات اس معنی پر شاہد عدل ہیں،خود فیصلہ میں امام عینی سے نقل کیا:
|
لایؤمن من التقول علیہ عــــــہ ۔ |
جھوٹ والے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا(ت) |
اسی طرح بحرالرائق ودرمختار وغیرہما میں ہے اور اب یہ مذہب منصوص سے چنداں بعید نہیں وہاں فسق حاضر و ظاہر پر بنائے کار ہے یہاں فسق مظنون و خفی و ارتفاع امان پر،اور اس کی نظیر اس کی ضد یعنی محبت ہے کہ وہ بھی جب اس درجہ تك بالغ ہو کہ یہ اس کے معاملہ میں متہم ہوجائے تو اس کے نفع میں اس کا قول مقبول نہیں اصل محبت بالاجماع مانع شہادت نہیں کما سیأتی (جیسا کہ آگے آئے گا۔ت) یونہی اصل عداوت تو حاصل حکم یہ ٹھہرا کہ اگر عداوت نے بالفعل فاسق کردیا تو بالاتفاق اس کی شہادت اس دشمن اور اس کے غیر سب کے معاملہ میں مطلقًا مردود،اور اگر اس مرتبہ قوت پر ہے کہ گوفی الحال مرتکب فسق نہ ہوامگر اس کے معاملہ میں عداوت کا پلہ عدالت پر غالب ہے تو غیرعدو کے بارے میں بالا تفاق مسموع،اور خاص عدو کے ضرر پر اختیار،متاخرین میں نامقبول،اور اگر ایسا نہیں تو مطلقًا اتفاقًا مقبول۔
|
ھذاھو التحقیق الذی یعطیہ کلامھم و یشدہ الدلیل فعلیہ فلیکن التعویل۔ |
تحقیق یہی ہے جوان کے کلام سے حاصل ہوئی اور دلیل اس کی تائید کرتی ہے اس پر اعتمادچاہئے۔(ت) |
عــــــہ: یہ عبارت اندازہ سے بنائی گئی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع