30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المنصوصۃ تخالفہا وانہ مذہب الشافعی،وقال ابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی تقبل اذاکان عدلا وفی المبسوط ان کانت دنیویۃ فھذا یوجب فسقہ فلا تقبل شہادتہ اھ ملخصا،والحاصل ان فی المسألۃ قولین معتمدین احدھما عدم قبولھا علی العدو وھذا اختیار المتاخرین وعلیہ صاحب الکنز و الملتقی، ثانیہما انہا تقبل الااذافسق بھا واختارہ ابن وھبان وابن الشحنۃ [1]اھ مختصرًا۔ |
مختار ہے حالانکہ منصوص روایت اس کے خلاف ہے،اور کہا کہ یہ امام شافعی کا مسلك ہے،اور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ شہادت قبول ہوگی جب وہ عادل ہو،اور مبسوط میں ہے کہ جب دنیوی عداوت ہو تو یہ موجب فسق ہے تو مقبول نہ ہوگی اھ ملخصًا،اور حاصل یہ ہے کہ اس مسئلہ میں دو معتمد قول ہیں،ایك یہ کہ عدالت والوں کی ایك دوسرے کے خلاف شہادت نامقبول ہے اور یہ متاخرین کا مختار ہے اور اسی پر صاحب کنز و ملتقی کا اعتماد ہے،اور دوسرا قول یہ ہے کہ عداوت والوں کی شہادت مقبول ہے تاوقتیکہ وہ فاسق نہ ہوجائیں،اور اس کو ابن وہبان اور ابن شحنہ نے اختیار کیا ہے اھ مختصرًا(ت) |
کنز الرؤس میں ہے:
|
شہادۃ العدو علی عدوہ لاتقبل لانہ متھم وقال ابوحنیفۃ تقبل اذا کان عدلا قال استاذ نا وھو الصحیح و علیہ الاعتماد لانہ اذاکان عدلا تقبل شہاد تہ وان کان بینھما عداوۃ بسبب امرالدنیا [2] اھ اثرہ فی البحرہ۔ |
عداوت والے کی ایك دوسرے کے خلاف شہادت مقبول نہیں کیونکہ وہ محل تہمت ہے،اور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا جب عادل ہوں تو مقبول ہے،اور ہمارے استاد نے فرمایا یہی صحیح ہے اور اسی پر اعتماد ہے کیونکہ جب عادل ہو تو اس کی شہادت مقبول ہے اگرچہ ان میں دنیوی عداوت ہو اھ،اور بحر میں اسے نقل کیا ہے(ت) |
شرح وہبانیہ و لسان الحکام میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع