30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنحو ما ذکرت [1]اھ ملتقطا۔ |
کے سبب ہوتا ہے جیسے میں نے ذکر کی ہیں اھ ملتقطا(ت) |
ثانیًا:مہاجرت کو عداوت ہی مانئے تو دنیویہ کا کیاثبوت،۔مسلمان کے اقوال افعال کو مہما امکن محمل حسن پر اتارنا واجب کما نطقت بہ الاٰیات والاحادیث(جیسا کہ آیات واحادیث نے اسے بیان کیا ہے۔ت) کیا یہ مہاجرت اس بناء پر ناممکن کہ مدعا علیہ نے تین طلاقیں دفعۃً دیں اور یہ شرعًا حرام،تو بوجہ ارتکاب معصیت اس سے مہاجرت کی فیکون من الدین لا للدنیا و ھو لایمنع القبول کما نص الفحول(تو وہ دین کے متعلق ہوگی نہ کہ دنیوی،جبکہ یہ مانع نہیں ہے جیساکہ بڑوں نے اس پر نص کی ہے۔ت) درمختار میں ہے:
|
تقبل من عدو بسبب الدین لانہا من التدین[2]۔ |
دین کے سبب عداوت والے کی شہادت مقبول ہے کیونکہ یہ دین پسندی ہے۔(ت) |
ثالثًا:دنیویہ ہی سہی مگر ہمارے تمام ائمہ کے اصل مذہب منصوص علیہ میں ہر عداوت دنیویہ مطلقًا مانع شہادت نہیں جب تك موجب فسق نہ ہو،منع مطلق امام شافعی کا مذہب ہے نہ کہ ہمارے ائمہ کا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ وقت اختلاف ترجیح ظاہر الروایۃ کی طرف رجوع واجب کما فی البحر والدر والخیریۃ وردالمحتار وغیرہا من معتمدات الاسفار(جیسا کہ بحر، در،خیریہ،ردالمحتار وغیرہاقابل اعتماد کتب میں ہے۔ت) نہ کہ جہاں روایت وہی ہو وہاں غیر کی طرف کیونکر مصیر، ردالمحتار میں ہے:
|
بقی ھنا تحقیق و توفیق وھو انہ ذکر فی القنیۃ ان العداوۃ الدنیویۃ لاتمنع قبول الشہادۃ مالم یفسق بھا وانہ الصحیح وعلیہ الاعتماد وان مافی المحیط و الواقعات من ان شہادۃ العدو علی عدوہ لاتقبل اختیار المتاخرین والروایۃ |
یہاں تحقیق اور توفیق باقی ہے وہ یہ کہ قنیہ میں مذکور ہے کہ عداوت دنیوی میں جب تك فاسق نہ ہوجائے اس کی شہادت قبول ہوگی،اور کہاکہ یہ صحیح ہے اور اس پر اعتماد ہے،جبکہ محیط اور واقعات میں یہ بیان ہے کہ دشمنی والے کی ایك دوسرے کے خلاف شہا دت قبول نہ ہوگی یہ متاخرین کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع