30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معین الحکام میں ہے:
|
لو شھد ابالخلع او الکبیع اوالھبۃ او الصدقۃ اوالرھن او الصلح واخلتفا فی المکان اوالزمان قبلت[1]۔ |
اگر گواہی کا تعلق خلع،بیع،ہبہ،صدقہ،رہن یا صلح سے ہو اور دونوں گواہ مکان یا زمان میں اختلاف کریں تو شہادت مقبول ہوگی(ت) |
جامع الفصولین و انقرویہ میں دربارہ اختلاف تاریخ ہے:
|
الاختلاف فی القول لایمنع[2]۔ |
قولی معاملہ میں تاریخ کا اختلاف گواہی کی مقبولیت کےلئے مانع نہیں ہے(ت) |
(عداوت دنیویہ) تفضل حسین خاں کا مدعا علیہ سے ترك سلام وکلام اولًا مہاجرت ہے اور مہاجرت و عداوت میں عموم وخصوص من وجہ،باپ اپنے بیٹے اور بھائی بھائی اور دوست دوست سے کسی بات پر کشیدہ ہوکر ترك سلام وکلام کرتا ہے مگر عداوت نہیں ہوتی ولھا نظائر فی عہد الصحابۃ بل و عہد النبوۃ مع قولہ تعالی" رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ "(اﷲ تعالٰی کے فرمان کہ"آپس میں رحم کرنے والے ہیں" کے باوجود صحابہ کرام بلکہ زمانہ نبوت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔ت) تو عام کو ایك خاص پر بلادلیل حمل کردینا کیونکرصحیح،لاجرم شرح وہبانیہ للمصنف ولا بن الشحنہ والشرنبلالی ولسان الحکام ودرمختار وغیرہا میں ہے:
|
مثال العداوۃ الدنیویۃ ان یشھد المقذوف علی القاذف والمقطوع علیہ الطریق علی القاطع الطریق و المقتول ولیہ علی القاتل والمجروح علی الجارح و قد یتوھم بعض المفقہۃ والشہود ان کل من خاصم شخصا فی حق یصیر عداوۃ ولیس کذٰلك بل العداوۃ تثبت |
دنیاوی عداوت کی مثال متہم ہونیوالے کی تہمت لگانے کے خلاف،ڈکیتی سے متاثر ہونیوالے کی ڈاکو کے خلاف،مقتول کے والی کی قاتل کے خلاف،مجروح ہونیوالے کی جارح کے خلاف شہادت ہے،بعض فقیہ بننے والے اور بعض گواہ لوگوں کا خیال ہے کہ ہر مخاصمت والے کی ایك دوسرے کے خلاف، عداوت قرار پاتی ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں بلکہ عداوت کا ثبوت ان صورتوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع