30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اصلا ھذا ما یعطیہ المقام شامی [1]۱۲،ولایقبل قول المستور فی ظاہر الروایۃوعن ابی حنیفۃ انہ یقبل قولہ فیہا جریا علی مذہبہ یجوز القضاء بہ وفی ظاہر الروایۃ ھو والفاسق سواء حتی یعتبر فیہما اکثر الرای ۱۲ ھدایۃ[2]،ولھذاجوز ابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی القضاء بشہادۃ المستور فیما یثبت بشبھات اذالم یطعن الخصم قال ولکن ماذکرہ فی الاستحسان اصح فی زماننا فان الغالب فی اھل الزمان الفسق فلا تعتمد روایۃ المستور مالم یتبین عدالتہ کما لا تعتمد شہادتہ فی القضاء قبل ان یظہر عدالتہ وفی ظاہرا لروایۃ ھووالفاسق سواء حتی یعتبر فیہما ای فی المستور والفاسق اکبر رأی فان کان غالب الرأی صدقھما یقبل قولھما والافلا عینی [3] ۱۲۔ |
کرنا بالکل صحیح نہ ہوگا،یہ مقام کی بحث ہے،شامی،اور مستور الحال کی بات ظاہر روایت کے مطابق قابل قبول نہیں ہے،اور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ اس کی بات قبول ہوگی جیسا کہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالٰی کا مذہب ہے جب شہادت قبول ہوگی تو قضاء بھی جائزہوگی اور جبکہ ظاہر الروایت میں مستور الحال اور فاسق کا حکم مساوی ہے حتی کہ ان دونوں میں رائے کے غلبہ کا اعتبار ہے،ہدایہ۔اور اس لئے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مستور الحال کی قضا کو ایسے معاملات میں جائز قرار دیا ہے جو شبہات کے باوجود مخالف فریق کے طعن نہ کرنے پر ثابت ہوجاتے ہیں،فرمایا، لیکن آپ نے استحسان میں جوفرمایا ہمارے زمانے میں وہ اصح قول ہے کیونکہ اس زمانہ میں فسق غالب ہے تو مستور الحال کا معاملہ جب تك حلف نہ ہوجائے اس پر اعتماد نہ کیا جائے گا جیساکہ قضاء کے معاملہ میں اس کی شہادت پر اعتماد ظہو رعدالت کے بغیر نہیں کیا جاتا ظاہر روایت میں اس کا اور فاسق کا حکم مساوی ہے حتی کہ ان دونوں کے متعلق غلبہ رائے میں ان کا صدق ہو تو ان کی بات مقبول ہوگی،ورنہ نہیں،عینی ۱۲۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع