30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعرف حالہ وقولھم بوجوب السوال عن الشاہد سراوعلانیۃ طعن الخصم اولا فی سائر الحقوق علی قولھما المفتی بہ یقتضی الاثم بترکہ لانہ للتعریف عن حالہ حتی لایقبل الفاسق وصرح ابن الکمال بان من قلد فاسقا یاثم واذا قبل القاضی شہادتہ یاثم [1]اھ وفی الفتاوی القاعدیۃ ھذا اذا غلب علی ظنہ صدقہ وھو مما یحفظ اھ قلت والظاہر انہ لایاثم ایضا لحصول التبیین المامور بہ فی النص تامل،قال ط فان لم یغلب علی ظن القاضی صدقہ فان غلب کذبہ عندہ او تساویا فلا یقبلھا ای لایصح قبولھا
|
مقتضٰی یہ ہے کہ گناہ ہوگا،اور ا ﷲ تعالٰی کے ارشاد''اگر فاسق کوئی خبر دے تو اس کی وضاحت طلب کرو'' کا ظاہری تقاضا یہ ہے کہ اس کی شہادت کا قبول کرنا اس کے حال کی تحقیق سے قبل حلال نہیں ہے جبکہ فقہاء کرام کا گواہ کے متعلق فرمانا کہ خفیہ طور پر اور اعلانیہ بھی اس کی تفتیش کی جائے فریق مخالف کا اس پر طعن ہویا نہ ہو خواہ تمام حقوق میں ہو،صاحبین کے مفتی بہ قول کے مطابق تو فقہاء کرام کی اس بات کا تقاضا ہے یہ کام ترك کرنے پر گناہ ہوگا کیونکہ یہ کام گواہ سے متعلق معلومات کےلئے ہے حتی کہ فاسق ہو تو گواہی قبول نہ کی جائیگی اور ابن کمال نے تصریح کی ہے کہ جس نے فاسق کی تقرری کی وہ گناہگار ہوگا اور جب قاضی فاسق کی شہادت قبول کرے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔فتاوٰی قاعدیہ میں ہے یہ جب ہے کہ تقرری اور شہادت قبول کرنے والے نے فاسق کے صدق کا گمان کیا ہو،یہ بات محفوظ رکھنے کے قابل ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں) ظاہر یہ ہے کہ گنہگار نہ ہوگا،کیونکہ نص میں بیان کردہ حکم کے مطابق تفتیش ہوچکی ہے،غور کرو۔ط نے کہا اگر قاضی کو گواہ فاسق کے صدق پر غلبہ ظن نہ ہو خواہ اس کذب پر غلبہ ظن ہو یا اس کا صدق و کذب قاضی کے نزدیك مساوی ہو تو شہادت کو قبول نہ کرے یعنی قبول |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع