30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چہارم: یہ کہ معاملہ ہذا اقسام دعاوی حلال وحرام سے ہے ایسے محل پر واجبات سے ہے کہ تاوقتیکہ گواہان ثقات و معتمد سے وقوع طلاق متحقق نہ ہو اوپر بیان مجرد ایسے اشخاص کے حکم تفریق بین الزوجین دینا بجز اس کے کہ اپنی جان کو ماخوذ بہ گناہ کیاجائے کوئی نتیجہ نہیں عدالت کی رائے میں کوئی گواہان میں سے ایسا نہیں کہ جس کی شہادت کے اطمینان پر حکم تفریق بین الزوجین دیا جائے اس لئے کہ غلام ناصر خاں مرد مان گواہی پیشہ سے ہے اکثر مقدمات میں گواہیاں اس کے وقت تلاش موجود نکل سکتی ہیں اور صدہا مخبریان دروغ لوگوں پر کرنا شروع کی تھیں کہ عندالتحقیق سرکار اصل ان کی نہ نکلی گواہی مخبر بوجہ فسق قابل قبول نہیں،تفضل حسین خاں پیشتر ازیں بمقدمہ جعل سازی سزایاب ہوچکا ہے غلام محی الدین خاں عرف ننھے خان اور کلن خاں جن کا حال ہم کو نہیں معلوم تھا ان کا حال ہم نے خفیہ طور پر بذریعہ آدم معتبر و معتمد خود دریافت کرایا یہ ہر دو گواہ بھی عند الدریافت آدم معتمد ثقات اور مقبول الشہادۃ نہ پائے گئے بناء برروایت شامی کے کہ جوذکر کی جائے گی اور بعض گواہ ان میں سے مستور الحال ہیں اور بعض فاسق ہیں اور گواہی مستور و فاسق کی جب تك تحری صدق نہ ہو اور عدالت ظاہر نہ ہو قابل اعتماد نہیں۔
|
کما قال فی الدر الفاسق اھلھا فیکون اھلہ لکنہ لایقلد وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہ بہ یفتی وقیدہ فی القاعدیۃ بما اذا غلب ظنہ صدقہ فلیحفظ، درر[1] ومقتضی الدلیل ان لایحل ان یقضی بھا فان قضی جاز و نفذ اھ ومقتضاہ الاثم وظاہر قولہ تعالٰی ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا انہ لایحل قبولھا قبل |
جیسے درمیں فرمایا کہ فاسق شہادت کا اہل ہے تو وہ قضاء کا اہل ہے لیکن اس کا تقرر نہ کیا جائے یہ لازمی بات ہے اور اس کی تقرری منظور کرنیوالا گنہگار ہوگا جیساکہ اس کی شہادت قبول کرنے والا گنہگار ہے اسی پر فتوٰی ہے،فتاوٰی قاعدیہ میں فاسق کے متعلق اہل قضاء و شہادت ہونے کو اس قید سے مقید کردیا کہ جب تقرر کرنیوالے کو فاسق کے صدق کا گمان ہو،اس کو محفوظ کرلو،درر۔اور دلیل کا مقتضی یہ ہے کہ فاسق کو فیصلہ دینا حلال نہیں تو اگراس نے کوئی فیصلہ کردیا تو جائز اور نافذ ہوگا اھ،اس کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع