30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان ھذاویکون ھذاالسوال بطریق الاحتیاط وان کان لایجب ھذاعلی الشہود فی الاصل،فاذا فرقھم فان اختلفو افی ذٰلك اختلافا یفسد الشہادۃ ردھا وان کان لایفسدھا لایردھا وان کان یتھمھم فالشہادۃ لانرد بمجرد التھمۃ فی نوادر ابن السماعۃ عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی قال ابوحنیفۃ اذا اتھمت الشہود فرقت بینھم ولاالتفت الٰی اختلافھم فی لبس الثیاب وعدد من کان معھم من الرجال والنساء ولا الی اختلافات المواضع بعد ان تکون الشہادۃ علی الاقوال وان کان الشہادۃ علی الافعال فالاختلاف فی المواضع اختلاف فی الشہادۃ قال ابو یوسف اذا اتھمتھم ورأیت الربیۃ فظننت انھم شھود الزور افرق بینھم واسألھم عن المواضع والثیاب ومن کان معھم فاذا اختلفو افی ذٰلك فھٰذا عندی اختلاف ابطل بہ الشہادۃ کذافی المحیط[1] ۱۲۔ |
سوال کرے کہ واقعہ کب اور کہاں ہوا،یہ سوال بطور احتیاط ہوگا اگرچہ گواہوں پر یہ بیان کرنا لازم نہیں ہے،تو جدا کرنے پر جگہ اور وقت میں دونوں کا بیان ایسا مختلف ہو جس سے شہادت میں فساد ہو تو اس کو رد کردے اور وہ اختلاف ایسا ہو جس سے شہادت فاسد نہ ہوتی ہو تو رد نہ کرے اور اگر گواہوں میں اتفاق پایا جائے تو محض تہمت کی بناء پر رد نہ کرے،ابن السماعۃ کے نوادر میں امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے روایت ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا ہے جب گواہوں پر تہمت پاؤں تو ان میں تفریق کردوں گا اور ایسے اختلاف کی طرف التفات نہ کرونگا کہ ان کا لباس کیا اور ان کے ساتھ کتنے مرد اور عورتیں تھیں اور نہ ہی جگہوں کے اختلاف کی طرف التفات کروں گا بشرطیکہ شہادت اقوال پر ہو اور اگر شہادت افعال پر ہو تو جگہوں کا اختلاف شہادت کا اختلاف قرار پائے گا،امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا جب مجھے شك ہو اور میں یہ گمان کروں کہ گواہ جھوٹے ہیں تو میں دونوں کو ایکدوسرے سے جدا کرکے ان سے مواضع اور لباس کے کپڑوں اور واقعہ میں موجود مرد وعورتوں کی تعداد کے متعلق سوال کروں گا اگر وہ ان امور میں اختلاف کریں تو میرے نزدیك یہ ایسا اختلاف ہو گا جس کی بناء پر میں شہادت کو باطل قرار دوں گا،محیط میں یونہی ہے ۱۲۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع