30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قائم کی ان الفاظ پر جوان کے اظہاروں سے نقل کئے جاتے ہیں تفضل حسین خاں اپنے اظہاروں میں بیان کرتا ہے اس طلاق دینے کے بعد سے اب تك میری اور عباس علی خاں کی بات چیت نہیں ہے اور نہ سلام علیك بگاڑ ہے نہ میں بات چیت اور سلام علیك مدعا علیہ سے کرتا ہوں اور مدعا علیہ مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیتا ہے۔غلام ناصر خاں نے اپنے اظہار میں لکھایا ہے کہ مدعیہ کا اگر کسی سے جھگڑا ہو تو مظہر اس میں کوشش و طرفداری کریگا جو عزیز ہوتا ہے وہ طرفداری کرتا ہے مظہر مدعیہ کا عزیز ہے اس واسطے میں بھی طرفداری کروں گا،اس بیان پر عدالت نے یہ وجہ نا مقبولی شہادت شہود قائم کی منجملہ گواہان تفضل حسین خان سے عداوت دنیوی مدعا علیہ ثابت ہے اور اثبات عداوت خود باقرار گواہ ظاہر ہے کہ وہ باظہار خود لکھاتا ہے کہ روز طلاق سے مظہر کا مدعا علیہ سے بگاڑ ہے نہ بات چیت ہے نہ سلام علیک،غلام ناصر خاں،غلام محی الدین خاں پیروکار مقدمہ اور مثل مدعیہ ہیں کہ ان دونوں نے بھی باظہار خود لکھایا ہے کہ اگر مدعیہ سے کسی کا تنازعہ ہو تو ہم کوشش و طرفداری مدعیہ کی کریں گے اور گواہی مخاصم مقدمہ اور عدوی دنیوی شرعًا بموجب روایت ہذا نامقبول ہے:
|
ولاشہادۃ عدو اذاکانت العداوۃ لاجل الدنیا لان العداوۃ لاجل الدنیا حرام فمن ارتکبہا لایؤمن من التقول علیہ [1]۱۲عینی۔ |
دشمن کی شہادت قبول نہ ہوگی جب یہ دشمنی دنیاوی ہو کیونکہ دنیا کی خاطر دشمنی حرام ہے تو جس نے یہ ارتکاب کیا اس کے جھوٹ بولنے کا خطرہ رہتا ہے ۱۲عینی(ت) |
تیسری وجہ: عدم مقبول شہادت شہود یہ قائم کی کہ باہم شہادت شہود میں اختلاف ہیں وہ الفاظ کہ جن میں عدالت نے اختلاف ثابت کیا ہے اظہاروں سے نقل کئے جاتے ہیں کہ تفضل حسین خاں بیان کرتا ہے کہ اس لڑکی کو میں نے پرورش نہیں کیا میری بیوی نے پرورش کیا ہے اور سامان شادی بھی اسی نے دیا ہے،اورغلام ناصرخاں نےکہا کہ تفضل حسین خاں نے پرورش کیا ہے اور سامان شادی بھی اسی نے دیا ہے اور درمیان غلام ناصر خاں و غلام محی الدین خاں یہ اختلاف ہے کہ غلام ناصر خاں اپنے بیان میں لکھاتا ہے کہ پہلی مرتبہ جو طلاق دی تو یوں کہا تھا کہ بگامیں نے تجھ کو طلاق دی،اور غلام محی الدین خاں نے بیان کیا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی اس کی طرف نسبت کرکے،اور غلام محی الدین خاں اور تفضل حسین خاں میں یہ اختلاف ہے کہ غلام محی الدین خاں نے بیان کیا کہ مدعا علیہ جو آیا تھا تو امراؤ بیگم زوجہ تفضل حسین خاں کو سلام علیك کی تھی اور سب سے،اور تفضل حسین خاں کہتا ہے کہ نہیں کی تھی،اور بیان کرتا ہے کہ جس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع