30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہتا ہے کہ میں بتاریخ مذکورہ شہر میں موجود نہ تھا،ہندہ نے چار مرد مسمیان تفضل حسین خان و غلام ناصرخان وغلام محی الدین خان وکلن خان اور دو عوتیں مسماتان ظہورن بیگم و فاطمہ بیگم بہ ثبوت وقوع طلاق پیش کئے،ان میں سے پانچ نے ہنگام ادائے شہادت بمواجہ خود عباس علی خان کا طلاق دینا عند العدالت بیان کیا اور ایك نے یعنی کلن خان نے ادائے شہادت اقراری کی اور نیز جانب ہندہ سے ہنگام تحقیقات محلہ کے تین شخصوں نے اوپر موجودگی عباس علی خان کے شہر ہذا میں بتاریخ مذکورہ ادائے شہادت کی،عدالت نے دعوٰی ہندہ کو بے اصل اور شہادت شہود کو غیر مقبول قرار دے کر دعوی ہندہ کو نامسموع فرمایا اور وجوہ بے اصلیت دعوے اور نامقبولی شہادت شہود پیش کردہ ہندہ اپنے فیصلہ میں تحریر فرمائیں،
پہلی وجہ: نامقبولی شہادت و شہود کی ان الفاظ پر قائم کی کہ جملہ گواہوں نے بالاتفاق اپنے اظہاروں میں بیان کیا کہ اشہد باﷲ گواہی دیتے ہیں کہ عرصہ چھبیس ستائیس دن کا ہوا کہ خالی کا مہینہ تھا ساتویں تاریخ بدھ کا رو ز تھا آٹھ بجے دن کے تھے کہ عباس علی خان نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں دیں یہ کہ جملہ گواہان رجال و اناث مدعیہ مسموعہ عدالت نے دینا طلاق بمرور چھبیس ستائیس روز لکھایا ہے اور اس قسم کا بیان بیان زمان خواہ بدعوی ہو خواہ بشہادت بوجہ جہالت تاریخ شرعًا بموجب روایت ہذا کے نامقبول ہے،
|
ادعی بالفارسیۃ دوازدہ درہم وشہد الشہود ان لہذا المدعی علی ہذا المدعی علیہ دوازدہ درہم لاتقبل لمکان الجہالۃ،وکذٰلك اذاادعی دہ دوازدہ درہم، لاتسمع دعواہ وکذلك اذا ذکرت التاریخ فی الدعوی علی ھذا الوجہ بان قال ایں عین ملك من است از دہ دوازدہ سال فانہ لا تسمع دعواہ و کذٰلك اذا ذکر الشہود التاریخ فی شہادتھم کذافی الذخیرۃ، عالمگیریۃ[1]۔ |
فارسی میں دس گیارہ درہم کا دعوٰی کیا اور گواہوں نے گواہی دی کہ اس مدعی کے اس مدعی علیہ پر دس بارہ درہم ہیں تو شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ مجہول ہے اور یوں ہی دس بارہ کا دعوٰی بھی مسموع نہ ہوگا اور یوں ہی اگر دعوٰی میں تاریخ مجہول ذکر کی یوں کہ یہ چیز دس بارہ سال سے میری ملکیت میں ہے تو بھی دعوٰی مسموع نہ ہوگا اور ایسے ہی اگر گواہوں نے اپنی شہادت میں ایسی تاریخ بیان کی تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی،ذخیرہ میں یونہی ہے۔عا لمگیریہ(ت) |
وجہ دوم: عدم مقبولی شہادت تفضل حسین خاں و غلام ناصر خاں و غلام محی الدین خاں پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع