30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالتلقی من مورثیہ فیحتاج الی بینۃ تشھد لہ بالشراء ولا ینفعہ کونہ واضعا یدہ علیہ المدۃ المذکورۃ اجاب نعم دعوی ذلك التلقی عن ابی المودع ودعوی تلقی الملك من المورث اقرار بالملك لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیا وکل مدع یحتاج الٰی بینۃ ینور بھا دعواہ ولا ینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور لیس من باب ترك الدعوی بل من باب المواخذۃ بالاقرار ومن اقر بشیئ لغیرہ اخذباقرارہ ولو کان فی یدہ احقاما کثیرۃ لاتعد وھذامالایتوقف فیہ[1]۔ |
شر املك حاصل کرنے کا مدعی ہوگا اور اسے اس انتقال پر گواہ دینے ہوں گے اور چالیس برس سے زائد اس کا قبضہ اور زید کا سلوك عمرو کو کچھ نفع نہ دے گا،جواب:فرمایاہاں یہ عمرو کا دعوٰی ہے کہ مجھے دعوٰی ہے کہ مجھے تیرے مورث سے ملی ہے اور ارث زید سے ملنے کا اقرار تو اس کی ملك کی اوپر سے اقرار ہے اور اس کا دعوی کہ بذریعہ انتقال شرعی مجھے ملی تو اب عمرو اس پر گواہ دینے کا محتاج ہے کہ یہ مدعی ہوگیا اور ہر مدعی کو شہادت پیش کرنی لازم ہے جس سے اس کا دعوٰی ثابت ہواور وہ چالیس برس سے زائد کا قبضہ اسے اقرار مذکور کے ساتھ کچھ بھی نافع نہیں،نہ یہ تمادی کے باب سے ہے بلکہ باب اقرار سے کہ ہر مقر اپنے اقرار پر ماخوذ ہے اگرچہ وہ شیئ بے شمار قرنوں جگہوں سے اس کے قبضہ میں ہو،یہ ایسی واضح بات ہے جس میں شبہہ کو دخل نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۴۱: ازریاست رامپور موٹے کلن کی کنیان مرسلہ مولوی محمد عنایت اﷲ خان صاحب ۲۰/صفر ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس امر میں کہ ہندہ نے دعوی تفریق از زوجیت بجہت وقوع سہ طلاق مغلظہ بنام عباس عــــــہ علی خان نے مجھ کو بتاریخ فلاں بہ دادن سہ طلاق مغلظہ حبالہ نکاح اپنے سے آزاد کیا عباس علی خاں کو دینے طلاق سے ہندہ کے انکار ہے اور
عــــــہ:عباس علی خان بعد الت دیوانی محکمہ ابتدائی میں رجوع کیا اور دعوٰی اپنے میں بصراحت لکھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع