30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس کا مال چاہے چھپن لے کہ تونے یا تیرے باپ نے مجھے ہبہ کردیا یا میرے ہاتھ بیچا اور ثمن پالیا تھابیس پچیس معززین اس کے گواہ تھے جو سب مرچکے،اور بفرض باطل اگر ہبہ ہوتا بھی تو مال مشترك صالح قسمت قبل تقسیم ہبہ کرنا اگرچہ شریك کے لئے ہو محض ناتمام ہے جسے موت واہبہ قبل تسلیم نے باطل کردیا۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
|
(لا) تتم بالقبض(فیما یقسم و)(لو) وہبہ(لشریکہ) لعدم تصور القبض الکامل کمافی عامۃ الکتب فکان ھو المذھب[1]۔ |
قابل تقسیم چیزکا ہبہ قبضہ کے بعد بھی ناتمام رہتا ہے اگرچہ اپنے شریك کو ہبہ کیا ہو کہ اس میں بلاتقسیم قبضہ کامل متصور ہی نہیں جیسا کہ عام کتب میں تصریح ہے تو یہی مذہب حنفی ہے۔ |
اسی میں ہے:
|
(والمیم موت احد العاقدین) بعد التقسیم فلو قبلہ بطل۔[2] |
موہوب لہ کو قبضہ کا ملہ دینے کے بعد واہب یا موہوب لہ کا مرجانا ہبہ میں رجوع کامانع ہے اور اگر قبضہ کا ملہ سے پہلے ان میں سے کوئی مرجائے گا تو ہبہ سرے سے باطل ہوجائے گا۔ |
بلکہ اس کے دعوٰی ہبہ نے اسی کو ضرر دیا اس سے صاف ظاہر ہوا کہ مال کو وہ متروکہ پدر مانتا اور اپنی بہن کا اس میں حق ارث جانتا ہے جب تو اپنے لئے ہبہ از جانب خواہر کا مدعی ہے اور اس صورت میں چھتیس نہیں سو برس گزرجائیں دعوی ساقط نہیں ہوسکتا۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
سئل فیما اذاادعی زید علی عمرو ومحدودا انہ ملکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریتہ من والدك وانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنہ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعوی،ھل یکون ذٰلك من باب الاقرار |
سوال ہوا کہ زید نے عمرو پر ایك زمین کا دعوٰی کیا کہ میری ملك ہے باپ کے ترکہ سے میں اس کا وارث ہوں عمرو نے جواب دیا کہ میں نے تیرے باپ سے خرید لی تھی اور چالیس برس سے زائد ہوئے کہ میں اس پر قابض ہوں اور تو ایك شہر میں میرے ساتھ ساکن اور بلاعذر ساکت ہے آیا اس صورت میں کیا عمرو مورث زید سے بذریعہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع