30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المعروف بالکذب لاعدالۃ لہ فلا تقبل شہادتہ ابداوان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سہوا اوابتلی مرۃ ثم تاب کذافی البدائع۔[1] |
جھوٹ میں مشہور شخص عادل نہیں ہے تو اس کی شہادت کبھی مقبول نہ ہوگی اگرچہ وہ توبہ بھی کرلے بخلاف اس شخص کے جو بھول کر جھوٹ میں مبتلا ہوا یا کبھی ایك مرتبہ جھوٹ بولا ہو پھر توبہ کرلے،تو اس کی شہادت قبول ہوگی،ایسے ہی بدائع میں ہے۔(ت) |
ایسے لوگ فاسق معلن ہیں اور فاسق معلن کے پیچھے نما مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنانا گناہ ہے اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی جائے اس کا پھیرنا واجب ہے ہاں اگر توبہ کرلیں اور ان کا حال صلاح کے ساتھ بدل جائے تو اس وقت ان کے پیچھے نماز میں حرج نہ ہوگا جبکہ باقی شرائط جواز وحلت امامت کے جامع ہوں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۴۰: ازپبی ضلع پشاور مدرسہ قادریہ محمودیہ واقع مسجد چہل گزی مولوی حمد اﷲ صاحب قادری محمودی ۲/ربیع الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ماموں عمرو پر اپنے نانا کے متروکہ سے جو عمرو کے قبضے میں ہے اپنی ماں متوفاۃ کے حق میراث کا دعوٰی کیا عمرو جواب دہ ہوا کہ یہ مال ۳۶ برس سے میرے قبضے میں ہے دعوٰی میں تمادی عارض ہے نیز تیری ماں نے اپنا حصہ میراث اپنی حیات میں مجھے ہبہ کردیا تھا جس کے گواہوں میں اب کوئی زندہ نہیں،زید کہتا ہے یہ مال تجارت کا ہے اب تك میرے نانا کانام مندرج کاغذات رہا میں نے اور ما ں نے تمہیں امین جانا اور بنظر تجارت ترقی کا خیال رہا،امید تھی کہ جب داخلخارج ہوگا حصہ مادری میں میرا نام درج کراؤگے ڈیڑھ سال سے تم نے داخلخارج کرایا اور صرف اپنا نام مندرج کرایا لہذا میں مدعی ہوا گواہان مردہ سے ثبوت ہبہ کیسے ہوسکتا ہے،نہ مال مشترك کا ہبہ صحیح نہ میراث میں تمادی مانع۔نیز تمہارے دعوٰی میں تناقض ہے کہ ہبہ کا بھی ادعا کرتے ہو اور تمادی عذر بھی۔اس صورت میں زید حق پر ہے یا عمرو؟ عبارات عربی کا اردو ترجمہ فرمادیا جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید کا دعوٰی صحیح و مقبول ہے اور عمرو کے عذر باطل و مخذول۔ہبہ صرف اس کی زبان سے کیسے ثابت ہوسکتا ہے،اموات کو گواہ قرار دینا عجب جہل بے مزہ ہے،ایسی شہادت بس ہو تو جو چاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع