30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی عورت بلا طلاق کیونکر دوسرے مرد پر حلال ہوگئی،اگر یہ تمام باتیں درست ہیں تو مہر بانی فرماکر فتوٰی دیں:
(۱) عام مسلمانوں کے واسطے کیا حکم،آیا وہ اس قضا کو مان لیں جوان کے خیال میں بالکل ناجائز ہے کیونکہ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ نکاح پہلے ہوا ہے بعض نکاح کے موقع پر موجود تھے بعض وہ ہیں جن کو لڑکی کا باپ طلاق کے واسطے کہتا تھا۔
(۲) قاضی کے واسطے کیا حکم ہے جس نے دانستہ دو گواہ لئے گوان گواہوں کے مطلب میں کوئی فرق نہ تھا مگر خود قاضی نے ناتا کا لفظ نکلوا کر پہلے گواہ کو جھوٹا جانا اور دوسرے گواہ کی شہادت پرجاکر اس عورت کا نکاح دوسرے آدمی سے پڑھ دیا جس گاؤں میں اس کا نکاح پہلے ہوا تھا وہاں کے کسی بھلے مانس نے پوچھا تك نہیں۔
(۳) لڑکی کے والدین کے لئے کیا حکم ہے جنہوں نے نکاح پر نکاح بنوایا ان سے بعد میں پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا حالانکہ تم پہلے طلاق لینے پر تیار تھے تو کہتے ہیں کہ قاضی جی نے بغیر طلاق حلال کردیا۔
(۴) لڑکی کے خاوند کے لئے کیا حکم ہے جس کو اب تك لاہور سے رخصت ہی نہیں ملی ادھر قاضی جی اس کی عورت دوسرے کو دلواچکے ہیں کیا وہ قاضی جی کی قضا کو مان کر اپنی عورت سے ہاتھ دھوبیٹھے۔
الجواب:
ایسا شخص قاضی نہیں ابلیس ہے اور اس کا ناتے اور شادی میں فرق کرنا شیطانی تلبیس ہے ناتا ہی اصل نکاح ہے تو عورت کا منکوحہ غیر ہونا انہیں دونوں گواہوں سے ثابت ہولیا تھا قاضی نے ہٹ دھرمی سے اسے نہ مانا اور گواہوں کے سننے سے انکار اس کی خباثت قلبی تھی نصاب کے بعد اور گواہوں کی حاجت نہ ہونا اس صورت میں ہے جب کہ نصاب سے ثبوت ہوجائے اس کے نزدیك ابھی ثبوت نہ ہوا تو اور گواہ سننا فرض تھا مگر اس نے قصدًا نہ چاہا اسے تو حرام قطعی کو حلال کرنا اور خود زنا کا دلال بننا تھا وہ اور گواہ کیسے سنتا اور یہ جواب کہ قضا پر قضاء نہیں ہوتی اس کی تیسری شیطنت ہے اول تو یہ نکاح خواں شرعًا قاضی نہیں ہوتے ان کو قاضی کہنا ایسا ہے جیسے لونڈوں کے میاں جی بے علم کو مولوی صاحب کہنا اور ہوبھی تو اس نے کون سی قضا کی تھی جو بدل نہ سکے اتنا ہی تو تھا کہ اس کے نزدیك نکاح ثابت نہ ہوا عدم ثبوت کوئی قضا نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع