30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ گو نکاح خواں اور چند گواہ مرگئے ہیں لیکن پھر بھی کئی گواہ موجود ہیں قاضی نے کہا کہ زیادہ گواہوں کی ضرورت نہیں صرف دو گواہ میرے پاس لے آؤ،اس بیچارے کو پتہ نہ لگا کہ قاضی صرف دو گواہ کیوں مانگتا ہے،اس کی حکمت آگے ظاہر ہوجائے گی کہ منطق پڑھے ہوئے قاضی نے کیوں دو گواہ مانگے،جب دو گواہ قاضی کے پاس آئے تو ان میں سے ایك نے پورے طور پر بیان کیا کہ نکاح ہوا اور ایجاب و قبول ہوا ہے قاضی نے کوئی سوال نہ کیا دوسرے گواہ نے جب ٹھیك طور پر گواہی دینی شروع کی تو قاضی نے جھٹ سوال کیا کہ شادی ہوئی تھی یا ناتا،اس نے کہا ناتا،قاضی جی کی چاندی ہوگئی،وہ چاہتا بھی یہی تھا،یہ سن کر بغیر مزید سوالات فیصلہ دے دیا کہ نکاح ثابت نہیں ہوا شہادت نہیں ہے حالانکہ ناتا کہنے والے نے اسی وقت کہا کہ میری مراد یہ تھی کہ شادی نہیں ہوئی بلکہ ناطہ میں ضرورایجاب و قبول ہوا ہے اس واسطے شادی کی مقابلہ میں میں نے ناتا کہا،مگر قاضی نے باور نہ کیا اور پھر کہا گیا او ربھی کتنے آدمی ہیں جو اس نکاح کے وقت موجود تھے،قاضی نے کہا نصاب ہوچکا ہے اس سے زیادہ گواہ نہیں لینا چاہتا قاضی کے لئے راہ بن گیا فورًا اس گاؤں میں جاکر لڑکی کا نکاح دوسرے آدمی سے کردیا حلوے مانڈے کھا چلتا بنا۔اس قضا سے مسلمانوں میں عجیب حیرت ہے خاص کراس گاؤں اور گردو نواح کے لوگوں کو جن کو اس نکاح کی خبر تھی ان گواہوں کو جو نکاح میں موجود تھے ان معتبر مسلمانوں کو جن کو لڑکی کابا پ کہتا تھا کہ طلاق دلوادو کہ قاضی جی نے خوب قضا کی خاوند کو خبرہی نہیں دو سو میل پر بیٹھا ہے قاضی بغیر طلاق کے اس عورت کا نکاح دوسرے آدمی سے پڑھ دیتا ہے،عجب عجب عجب،پتہ کے گاؤں کے لفظ ناطہ ایك ایسا مل گیا ہے جو سب باتوں کو رد کردیتا ہے اس بات پر غور کرنے نہیں دیتا کہ اگرمعاملہ صاف ہوتا تو طرفین کے آدمی میرے پاس کیوں آتے کیا میرے بغیر اس گاؤں میں نکاح کوئی نہیں پڑھ سکتا،جب گواہ پیش کرنے کو کہا جاتا ہے تو قاضی کہتا ہے کہ نصاب پورا ہوگیا،جب شریعت کی طرف رجوع کرنے کو کہا جاتا ہے تو یہ کہہ کر چپ کردیا جاتا ہے کہ قضا پر قضا نہیں ہوتی لیکن یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ دو گواہوں میں سے ناطہ کہنے والے کو کیوں سچا سمجھا جاتا ہے اور دوسرے کو جھوٹا اور کیوں قاضی نے بغیر مزید تحقیقات نکاح پر نکاح پڑھ دیا۔قاضی کے اس مسئلہ نے تمام عورت والوں کو ڈرا دیا ہے جس کا جی چاہے خاوند کی عدم موجود گی میں دو گواہ پیش کردے جن میں سے ایك کہہ دے کہ اس عورت کا نکاح نہیں ہو ا پس عورت کے ساتھ قاضی جی سے نکاح پڑھوالے اور عورت والا بیچارہ منہ دیکھتا کا دیکھتا رہ جائے۔جناب من! اب خوب تحقیق کرکے جواب سے سرفراز فرمادیں کیونکہ قاضی جی کی اس قضاء سے اس علاقے کے مسلمانوں میں عجیب ہلچل اور کھلبلی پڑی ہوئی ہے اور حیران ہیں کہ جیتے خاوند
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع