30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارسال ہوتا تھا تو اسے عورت کےلئے تملیك نہیں کہہ سکتے کہ علاوہ شیوع مجہول القدر ہے مقصود یقینا یہ ہےکہ جتنا عورت کے صرف میں آئے وہ اٹھائے جتنا بچوں کے خرچ میں آئے ان پر صرف کرے نہ یہ کہ کہ عورت اور ہر بچے کو بحصہ مساوی مالك کیا اور جہالت قدر مبطل ہبہ ہے۔بحرالرائق میں ہے:
|
یشترط فی صحۃ المشاع الذی لایحتمل القسمۃ ان یکون قدر امعلوما [1]۔ |
مشاع یعنی جو تقسیم نہ ہوسکے ایسی چیز کی ہبہ کی صحت کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کی قدر معلوم ہو۔(ت) |
تو ثابت ہوا کہ وہ بھیجنا بھی تموین ہی تھا نہ کہ تملیک،لہذا جو کچھ بچا ملك زید ہی تھا ھکذاینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق(تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کا ولی ہے۔ت) یہاں سے ظاہر ہوا کہ دوسرے دعوٰی خالدہ کے تین جواب جو زیدس نے دئے اگرچہ ان میں دو پچھلے صحیح نہیں،زن وشو کا معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ شرف و شرم والیاں اس میں تقاضائے دین پسند نہیں کرتیں تو نہ مانگنا یا وصیت نہ کرنا دلیل تملیك نہیں ولا ینسب الی ساکت قول(خاموش کی طرف بات منسوب نہیں ہوتی۔ت) مگر پہلا جواب کہ وہ میری ہی ملك تھا صحیح ہے،نہ اس طور پر کہ زید نے کہا،بلکہ جس طرح ہم نے تقریر کی۔ رہا خالدہ کا بیان کہ اس کے نانا کے مریدین و تلامذہ اسے اور اس کی ماں کو کچھ دیتے تھے اس کا ثبوت اس کے ذمہ ہے کہ اس روپے میں سے اس کی ماں نے زید کو دیا اگر بتعین مقدار اسے شہود عدول سے ثابت کردے تو اس کا حاصل اس قدر ہوگا کہ زید اتنے روپے کا مدیون ہے،مکان پر خالدہ وغیرہ کسی کو دعوٰی نہیں پہنچتا کہ روپیہ قرض دیا ہے نہ کہ مکان کا کوئی حصہ مول لیا ہے والدیون تقضی بامثالھا(نقدی دین کی ادائیگی ہم مثل سے ہوتی ہے۔ت)خیریہ میں ہے:
|
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب[2]۔ |
والد کے مال سے خریدی گئی چیز کو یہ لازم ہیں کہ وہ باپ کی ہوجائے۔(ت) |
تعین و مقدار کی ضرورت یہ ہے کہ بے اس کے دعوی مسموع نہیں مثلًا خالدہ کہے اس میں کچھ روپیہ زر نذور کا تھا نہ سنا جائے گا، ہندیہ میں ہے:
|
لو کان المدعی بہ مجھولافان القاضی |
جس چیز کا دعوٰی ہےوہ اگر مجہول ہو تو قاضی اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع