30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وبقی شیئ من الدراھم والکسوۃ فان القاضی لایقضی باخری فی الاحوال کلہالانھا باعتبار الحاجۃ فی حقھم،وفی حق المرأۃ معاوضۃ عن الاحتباس ولہذا اذاضاعت النفقۃ او الکسوۃ من ایدیھم یفرض لھم اخری لما ذکرنا [1]۔ |
تو قاضی اس کےعوض کچھ اورکسی حالت میں دینےکا حکم نہیں کرسکتاکیونکہ ان کے لئے یہ خرچہ حاجت کے اعبتار سے ہوتا ہے اور بیویوں کے حق میں ان کو مبحوس رکھے کا معاوضہ ہوتا ہے اس لئے ان کے خرچہ میں سے اگر ان کے پاس ضائع ہوجائے تو قاضی اسکے عوض کےلئے حکم نافذ کرے گا جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
النفقۃ فی حق القریب بقدر الحاجۃ والکفایۃ وفی حق الزوجۃ معاوضۃ عن الاحتباس ولذالومضی الوقت وبقی منھا شیئ یقضی باخری لھا لالہ وکذا لوضاعت[2]۔ |
قریبی کے حق میں نفقہ بقدر حاجت و کفایت ہوتا ہے اور زوجہ کے حق میں پابندی کا معاوضہ ہوتا ہے اس لئے بیوی کے حق میں سے کچھ بقایا ہو تو وقت گزرجانے کے باوجود مزیدادا کرنے کا حکم دے گا اور قریبی کےلئے ایسا نہیں ہے اور یونہی اگر ضائع ہوجائے۔(ت) |
اسی پر حواشی فقیر غفرلہ میں ہے:
|
اقول:سبق قلمہ وصوابہ(وبعکسہ لوضاعت) ای یقضی باخری لہ لعدم اندفاع الحاجۃ لالھا لو صول العوض الیہا[3]۔ |
اقول:(میں کہتا ہوں) یہ قلم کی سبقت ہے،ورنہ درست اس کا عکس ہے،اگر ضائع ہوجائے یعنی قریبی کےلئے نفققہ ضائع ہوجائے تو قاضی اس کے لئے مزید کا حکم دے گا کیونکہ اس کی حاجت پورا کرنا ہے،بیوی کے لئے ایسا نہیں کیونکہ وہ عوض کے حقدار ہے جو اسے مل گیا ہے(ت) |
یہاں سے خالدہ کے اس دعوٰی کا کہ جس قدر بچتا تھا ہمارا اور ہماری والدہ کا تھا اپنی نسبت بطلان تو ظاہر ہوگیا اس کی ماں کی نسبت بھی صحیح نہ رہا۔سوال سے ظاہر ہے کہ زید تنہا عورت کے نقہ اسے نہ بھیجتا تھا بلکہ مع اولاد،اور اس میں کوئی تفصیل نہ تھی کہ اتنا زوجہ کےلئے اتنا اولاد کے واسطے بلکہ مجملًا بغرض صرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع