30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خرچ کے لئے بھیجتا یا اسے دیتا ہے،اس صورت میں جو کچھ اسے دیا وہ ملك زن ہوگیا،اس میں سے جو کچھ بچے گا،خواہ عورت کی جز رسی سے یا یوں کہ وہ مہینوں اپن ی ماں کے یہاں رہی اور مصارف ماں نے کئے بہر حال عورت ہی اس کی مالك ہے۔بحر الرائق وردالمحتار میں ہے:
|
المفروضۃ اوالمدفوعۃ لھا ملك لہا فلہا الاطعام منھا والتصدق وفی الخانیۃ لو اکلت من مالھا او من المسألۃ لھا الرجوع علیہ بالمفروض[1]۔ |
عورت کے لئے مقرر شدہ یا اس کو ادا شدہ کی وہ مالك ہے تو اس میں سے اس کوکھلانے اور صدقہ کرنے کا حق ہے،ور خانیہ میں ہے اگر عورت اپنے مال میں سے کچھ کھائے یا وصول کردہ سے مقرر شدہ کیلئے عورت خاوند سے رجوع کرسکتی ہے۔(ت) |
ظاہر ہےکہ یہاں واقع صورت ثانیہ ہےکہ زید اسےخرچ بھیجاکرتا تھا تو تو چاہئےکہ عورت ہی اس کی مابلکہ ہو،
اقول:مگر یہاں ایك نکتہ اور ہے زن وولد کے نفقہ میں فرق ہے وہ جزائے احتباس ہے اور جبکہ نفقہ اسے دیا گیا اس کی ملك ہوگیا اگر وہ نہ اٹھائے بلکہ دوسری جگہ سے اپنا خرچ چلائے تواس سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر اس نے مثلًا مہینے یا سال بھر کا اسے دے دیا اور اس کے پاس سے چوری نہ کریں اپنی حاجت دوسرے طور پر رواکرلیں تو اس مدت کا ان کا نفقہ ذمہ پدر نہیں، اس صورت میں اگر ان کا نفقہ مثلًا کچھ ماہوار بحکم حاکم مقرر ہوا ہو جب بھی آئندہ کے لئے اس سے نہیں لے سکتے جب تك یہ خرچ نہ ہوجائے کہ پہلی حاجت دفع ہوگئی اور اگر اس نے دیا ان کے پاس سے چوری ہوگیا اسے دوبارہ دینا ہوگا کہ حاجت دفع نہ ہوئی تو اس میں سے جو کچھ پس انداز کریں وہ ان کی ملك نہیں ملك پدر ہے کہ معلوم ہوا کہ حاجت سے زائد ہے مگریہ کہ ان کو ہبۃً دے تو البتہ وہ مالك ہوں گے،ذخیرہ پھر بحرالرائق میں ہے:
|
فرق بین نفقۃ الزوجات وکسوتھن و بین نفقۃ المحارم وکسوتھم،فان فی الاقارب اذا مضی الوقت |
بیویوں کے لئے نفقہ و لبا س میں اور ذی محرم کیلئے نفقہ اور لباس میں فرق ہے کیونکہ اقارب کے نفقہ و لباس میں سےکچھ باقی ہو اور وقت گزرجائے |
[1] ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۴۹،بحرالرائق کتاب الطلاق باب النفقۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۴/ ۱۷۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع